ہمارے پہلے نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تعمیر پر کام جاری ہے: سعودی وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب پہلے جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ سعودی وزیر نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کی کانفرنس کے دوران اپنی تقریر میں مزید کہا کہ ہم اپنے قومی پرامن جوہری توانائی کے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارا نظام اور انفراسٹرکچر بین الاقوامی سطح کی مطلوبہ نگرانی کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی اور اس کی ریڈی ایشن ایپلی کیشنز سے فائدہ اٹھانے کے لیے آگے بڑھ رہا ہے۔ اپنے قومی جوہری توانائی کے منصوبے کو اس کے تمام اجزا کے ساتھ لاگو کیا جارہا ہے۔ مملکت میں یہ پہلا جوہری توانائی سٹیشن تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کے فریم ورک کے اندر رہ کر قومی ضروریات کے مطابق قومی توانائی کے مرکب کو تشکیل دینے اور پائیدار قومی ترقی کے حصول میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

وزیر توانائی نے مزید کہا کہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مملکت نے جوہری ریگولیٹری کام سے متعلق بنیادی انتظامی تیاری کے اجزا اور جامع حفاظتی معاہدے میں ذمہ داریوں کے حصول کے لیے تقاضوں کو مکمل کر لیا ہے۔ گزشتہ جولائی میں سعودی عرب نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کو سمال کوانٹیٹیز پروٹوکول کو روکنے اور حفاظتی معاہدے کے مکمل نفاذ کی طرف جانے کی درخواست پیش کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ مملکت سعودی عرب ایجنسی کے ساتھ مل کر اس سال دسمبر کے آخر تک چھوٹی مقدار کے پروٹوکول کو مؤثر طریقے سے روکنے کے لیے ذیلی اقدامات کو مکمل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اپنے قومی جوہری توانائی کے منصوبے سے متعلق بین الاقوامی ضروریات کو پورا کرنے کے مملکت کے عزم پر زور دیا۔

شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے وضاحت کی کہ مملکت کا قومی نظام اور ادارہ جاتی ڈھانچہ جوہری اور تکنیکی مواد کے کنٹرول اور برآمدی کنٹرول کے تقاضوں کو اپنی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی عدم پھیلاؤ کے نظام میں اہم کردار کے مطابق پورا کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں