حزب اللہ نے ٹیلی گرام کے ذریعے اعلان کیا ہے کہ اس کے 20 ارکان اور رہ نما کل بدھ کے روز پیجر کے دھماکوں میں مارے گئے ہیں۔ انہوں نے ان علاقوں کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔
بعد ازاں لبنان کی نگراں حکومت میں وزیر صحت فراس الابیض نے اعلان کیا کہ لبنان میں کل بدھ کو ہونے والے پیجر دھماکوں میں مرنے والوں کی تعداد 20 سے بڑھ کر 32 ہو گئی ہے۔
صور لعناصر حزب الله الذين قتلوا بتفجيرات أجهزة الاتصال #قناة_العربية#النشرة_الصباحية pic.twitter.com/a9e7CLSQHO
— العربية (@AlArabiya) September 19, 2024
الابیض نے زخمیوں کی تعداد ظاہر نہیں کی صرف اتنا کہا کہ لبنان میں 17 اور 18 ستمبر کو وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائسز، فونز اور سولر پینلز اور لیتھیم بیٹریوں سے چلنے والے آلات کے دھماکے کے بعد ہزاروں لوگ اب بھی ہسپتالوں میں ہیں۔
في انفجارات جديدة استهدفت معدات طاقة شمسية وأجهزة اتصال لاسلكية.. الصحة اللبنانية: "20 قتيلاً وأكثر من 450 جريحاً ضحايا “الموجة الثانية” من تفجيرات لبنان#لبنان#العربية pic.twitter.com/1tkWfFyrrn
— العربية (@AlArabiya) September 19, 2024
خیال رہے کہ 17 ستمبر کو لبنان کے متعدد شہروں میں بیک وقت دھماکے ہوئے تھے اور ملک کی وزارت صحت کے مطابق 2,800 افراد زخمی ہوئے تھے۔
اس کے بعد کل 18 ستمبر کو لبنان میں سولر پینلز اور لیتھیم بیٹریوں سے چلنے والے آلات کے دھماکوں کی ایک نئی لہر آئی جس کے بعد حزب اللہ نے اسرائیل پر ان حملوں کا الزام عاید کیا۔