حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی پر اسرائیلی حکام کے بیانات کے بعد اسرائیلی چیف آف سٹاف نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اظہار کیا۔ ہرزی ہیلیوی نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حزب اللہ مزید حملے کرے گی ۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے پاس ایسی صلاحیتیں ہیں جو اس نے ابھی تک استعمال نہیں کی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی افواج حملے اور دفاع کے اگلے مراحل کے لیے اچھی طرح سے تیار ہیں۔ ان کے اس بیان سے حزب اللہ کے ساتھ کسی نئی کشیدگی کے امکان کا اشارہ ملتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوج وزیر اعظم نیتن یاہو اور وزیر دفاع گیلنٹ کے الفاظ کی بازگشت میں شمال کے رہائشیوں کی حفاظت اور ان کے گھروں کو واپسی سے دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے سینکڑوں ارکان اور درجنوں رہنماؤں کو ہلاک کردیا۔ حالیہ کارروائیاں ہر اس شخص کے لیے ایک پیغام ہیں جو اسرائیل کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ اس سے قبل حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر 100 سے زیادہ میزائل داغے تھے۔
اسرائیل کے شمالی محاذ پر کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب اسرائیلی فوج نے انکشاف کیا کہ رات کے وقت اسرائیل کی جانب 150 میزائل اور ڈرون داغے گئے۔ العربیہ یا الحدث کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ نے ایک بار پھر زیریں الجلیل اور حیفا کے مضافات کو نشانہ بنایا ہے۔۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے سلامتی کی بحالی کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر حزب اللہ پیغام کو نہیں سمجھتی ہے تو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ اسے سمجھ لے گی۔ حزب اللہ کو حالیہ دنوں میں تکلیف دہ دھچکے لگے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے تصدیق کی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ شمال کے باشندے امن کے ساتھ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔
واضح رہے اسرائیلی حکام کے بیانات گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے ان حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائسز پیجرز اور واکی ٹاکیز کو دھماکے سے اڑا دیا گیا جو حزب اللہ کے ارکان استعمال کرتے تھے۔ ان حملوں میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 39 اور زخمیوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئی۔