غزہ کی پٹی میں جنگ کسی سیز فائر کی پیش رفت کے بغیر تقریباً ایک سال سے جاری ہے اور اب اسرائیل حماس کا محاصرہ کرنے کے لیے ایک نئے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ اتوار کو اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم نیتن یاہو شمالی غزہ میں حماس پر محاصرہ کرنے کے طریقے استعمال کرنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ رپورٹیں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کنیسٹ کمیٹی کے بند اجلاس سے سامنے آئیں۔
ریٹائرڈ فوجی کمانڈروں کی طرف سے شائع ہونے والے اور اس مہینے بعض ارکان پارلیمنٹ کی طرف سے پیش کیے جانے والے اس منصوبے میں غزہ کے شمالی علاقوں سے فلسطینی شہریوں کے انخلا کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس کے بعد اسے ایک بند فوجی علاقہ قرار دیا جائے گا۔ اس منصوبے کے مطابق اسرائیل ہتھیار ڈالنے تک حماس کے پانچ ہزار باقی ماندہ جنگجوؤں کو محاصرے میں رکھے گا۔ دریں اثنا اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو نے کنیسٹ خارجہ امور اور دفاعی کمیٹی میں قانون سازوں کو مطلع کیا کہ منصوبہ زیر مطالعہ ہے۔
اسرائیلی پبلک براڈکاسٹر (ریڈیو کان) نے نیتن یاہو کے حوالے سے کہا کہ یہ منصوبہ منطقی ہے اور یہ جن منصوبوں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں سے ایک ہے۔ لیکن اس کے علاوہ دیگر منصوبے بھی ہیں۔ اسرائیل کو انسانی بحران کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ غزہ میں حماس کی پر تقریباً ایک سال سے جاری حملے کے نتیجے میں پٹی کے بیشتر باشندے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ 10 لاکھ افراد اس وقت انسانی ہمدردی کے مقاصد کے لیے مخصوص کیے گئے علاقے میں رہتے ہیں۔ یہ افراد پٹی کے رقبے کے صرف 15 فیصد سے بھی کم میں ہیں۔ اس علاقے میں بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی کمی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خاص طور پر شمالی غزہ میں انسانی امداد پہنچانا مشکل ہے جہاں اندازوں کے مطابق تین لاکھ سے پانچ لاکھ کے درمیان لوگ رہ رہے ہیں۔ یہ جنگ اس وقت شروع ہوئی جب حماس کے جنگجوؤں نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔ غزہ کی وزارت صحت نے اطلاع دی ہے کہ اس وقت سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 41 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ پٹی میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں زیادہ تر عام شہری تھے۔