’یہ مظالم ختم ہو جانے چاہئیں‘: غزہ پر اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام کا مؤقف

جنگ کا ایک سال مکمل ہونے کے قریب، امداد کی ترسیل اور کارکنان کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اقوامِ متحدہ کے سرکردہ عہدیداروں نے پیر کے روز غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان تقریباً ایک سال سے جاری جنگ میں "خوفناک انسانی مصائب اور تباہی کے خاتمے" کا مطالبہ کیا۔

عالمی رہنما نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے لیے جمع تھے تو اس موقع پر انہوں نے اقوامِ متحدہ کی ایجنسیوں کے سربراہوں کے دستخط کردہ ایک بیان میں کہا، "یہ مظالم ختم ہو جانے چاہئیں۔" ایجنسیوں میں یونیسیف اور عالمی غذائی پروگرام کے ساتھ دیگر امدادی گروپ شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا، "انسانی امدادی کارکنان کو ضرورت مندوں تک محفوظ اور بلا رکاوٹ رسائی ہونی چاہیے۔ ہم انتہائی ضرورت اور جاری تشدد کے پیشِ نظر اپنے کام نہیں کر سکتے۔"

اقوامِ متحدہ نے طویل عرصے سے جنگ کے دوران غزہ تک امداد کی ترسیل اور محصور فلسطینی انکلیو میں "مکمل لاقانونیت" کے باعث اس کی تقسیم میں رکاوٹوں کی شکایت کی ہے۔ تقریباً 300 انسانی امدادی کارکنان ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے دو تہائی سے زیادہ اقوامِ متحدہ کے عملے کے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے حکام نے کہا، "قحط کا خطرہ برقرار ہے تمام دو اعشاریہ ایک ملین باشندوں کو بدستور غذائی اور ذریعۂ معاش کی امداد کی فوری ضرورت ہے کیونکہ انسانی امداد کی رسائی محدود ہے۔ شعبۂ صحت تباہ ہو چکا ہے۔ غزہ میں صحت کی سہولیات پر 500 سے زیادہ حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

آسٹریلیا، برازیل، کولمبیا، انڈونیشیا، جاپان، اردن، سیرا لیون، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ نے پیر کے روز کہا کہ وہ انسانی بنیادوں پر عملے کے تحفظ کے لیے ایک اعلامیہ تیار کرنے کی غرض سے ٹیم بنائیں گے اور تمام ممالک کو دستخط کرنے کی دعوت دیں گے۔

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے کہا، 2024 امدادی کارکنان کے لیے ریکارڈ پر مہلک ترین سال ثابت ہو رہا ہے۔"

انہوں نے اسرائیل کی دفاعی افواج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "آسٹریلیا کو اپریل میں ورلڈ سینٹرل کچن (ڈبلیو سی کے) کی گاڑیوں پر حملے سے یہ بات شدت سے محسوس ہوئی جس میں آسٹریلوی زومی فرینک-کام اور ان کے ساتھی ہلاک ہو گئے تھے۔"

انہوں نے کہا کہ امدادی کارکنان کے لیے غزہ کرۂ ارض پر مہلک ترین جگہ ہے۔

اسرائیل کی فوج نے ڈبلیو سی کے کی گاڑیوں پر حملوں پر معافی مانگی اور ان میں ملوث دو سینئر کمانڈروں کو برطرف کر دیا ہے۔ تین دیگر کمانڈروں کو باقاعدہ سرزنش کی گئی۔ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ یہ حملے غیر ارادی اور افسوسناک تھے۔

اسرائیلی فوج کہتی ہے کہ وہ شہریوں کو پہنچنے والے نقصان کے خطرے کو کم از کم کرنے کے لیے اقدامات کرتی ہے اور یہ کہ فلسطینی ہلاکتوں میں سے کم از کم ایک تہائی مزاحمت کار ہیں۔ یہ حماس پر فلسطینی شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کا الزام لگاتی ہے جس کی حماس تردید کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں