عالمی غذائی پروگرام کی طرف سے دس لاکھ لبنانیوں کے لیے ہنگامی غذائی امداد کی ترسیل

حالیہ اسرائیلی بمباری نے ہزاروں نئے لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے اتوار کے روز کہا کہ اس نے لبنان میں بڑھتے ہوئے تنازعے سے متأثرہ 10 لاکھ افراد کے لیے کھانا فراہم کرنے کی غرض سے ہنگامی امدادی کارروائی شروع کی ہے۔

پروگرام کے تحت ملک بھر میں پناہ گاہوں میں کھانے کے لیے تیار راشن، روٹی، گرم کھانا اور کھانے کے پیکٹ تقسیم کیے جا رہے ہیں، اس بات کا اعلان کرتے ہوئے روم میں قائم ایجنسی نے ایک بیان میں کہا، "اس ہفتے کے آخر میں تنازع میں مزید تیزی کے باعث انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کی فوری ضرورت ہے۔"

بیروت کے باہر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کو بمباری میں ہلاک کر دینے کے دو دن بعد اسرائیل نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے درجنوں اہداف پر نئے فضائی حملے کر رہا ہے۔

حماس کے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد تقریباً ایک سال سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان سرحد پار سے فائرنگ ہوتی تھی جس میں نصر اللہ کے قتل نے تیزی سے اضافے کی نشاندہی کی ہے۔

ڈبلیو ایف پی نے کہا، لبنان میں بمباری سے "بحرانوں کے انبار کے بوجھ تلے دبی آبادی کے لیے حالات کی نزاکت اور سنگینی مزید بڑھ رہی ہے۔"

لبنان کے لیے پروگرام کے کنٹری ڈائریکٹر میتھیو ہولنگ ورتھ نے بیان میں کہا، "صرف چند دنوں میں ڈبلیو ایف پی کی امداد ہزاروں نئے بے گھر ہونے والے لوگوں تک پہنچ گئی ہے۔"

بین الاقوامی برادری سے سال کے آخر تک امدادی کارروائی کے لیے 105 ملین ڈالر جمع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا، "جیسے جیسے بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، ہم نقد رقم اور خوراک دونوں کے ذریعے 10 لاکھ لوگوں کی مدد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔"

ڈبلیو ایف پی کی علاقائی ڈائریکٹر کورین فلیشر نے کہا، "لبنان ایک انتہائی نازک اور سنگین مرحلے سے دوچار ہے اور ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں