ایران نے زہریلی شراب نے ایک بار پر پھر کئی افراد کی جان لے لی ہے۔ زہریلی شراب پینے سے ہونے والی ہلاکتوں کا یہ واقعہ شمالی ایران کے علاقے میں پیش آیا ہے۔ سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 6 افراد اس شراب سے مر گئے ہیں۔
ایران میں انقلاب کے بعد سے شراب نوشی کو جرم قرار دیا جا چکا ہے، تاہم ایسے لوگ موجود ہیں جو شراب کے عادی ہیں یا کسی نہ کسی موقع پر اس کے چوری چھپے پینے کی کوئی صورت پیدا کر لیتے ہیں۔ انہی میں سستی مگر زہریلی شراب کا رسک لینے والے بھی شامل ہوتے ہیں۔
سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی ایران کے صوبے گیلان میں چار افراد نے زہریلی شراب پی اور موت کے منہ میں چلے گئے۔ کل 20 افراد نے یہ شراب پی تھی۔ ان مین 22 سال سے چالیس سال کے افراد شامل ہیں۔ جبکہ باقی شراب نوش ہسپتال مین زیر علاج ہیں۔
خبر رساں ادارے ' ارنا ' کے مطابق چھے کی حالت نازک ہے ۔ 'ارنا' کے مطابق پچھلے سال ماہ ستمبر میں چار افراد کو زہریلی شراب پلا کر انسانی جانیں لینے کے جرم پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔ واضح رہے غیر مسلم شہریوں کو ایران میں بھی شراب پینے کی اجازت ہے۔ البتہ مسلمانوں کو یہ حق نہیں دیا گیا ہے۔