امریکہ کی طرف سے ایرانی حملے کی پیشگی اطلاعات کے چند گھنٹوں بعد اسرائیلی فوج نے منگل کے روز ایران سے اسرائیل پر میزائل حملے کی تصدیق کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر اسرائیلی فضا میں پرواز کرتے ہوئے بیلسٹک میزائل دیکھے جا سکتے ہیں۔ عبرانی اخبار "يديعوت أحرنوت" کے مطابق ایران نے اسرائیل پر کم سے کم 102 میزائل داغے۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق ایران نے اسرائیل پر چار سو میزائل داغے۔
اسماعیل ہینہ اور حسن نصر اللہ کا بدلہ
ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے کیا گیا ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایران نے اسرائیل پر درجنوں میزائل داغے ہیں اور اگر اسرائیل نے جوابی کارروائی کی تو تہران کا ردعمل مزید شدید اور تباہ کن ہو گا۔
سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے اسرائیل پر میزائل حملوں کا حکم دیا اور اس حملے کے بعد ایران کسی بھی قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیار ہے۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہنیہ، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر نلفروشان کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے ہم نے اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے۔