اسرائیل کا 'ایرو سپیس' دفاعی نظام اب زیادہ سرگرم ہو گیا

ایرو سپیس دفاعی نظام آئرن ڈوم کی جگہ لے پائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل نے اپنے پہلے سے مشہور کردہ مضبوط دفاعی نظام ' آئرن ڈوم' کی جگہ ایک دوسرے دفاعی نظام ' ایرو سپیس ' کی تعریف شروع کر دی ہے۔ تاثر یہ دیا جارہا ہے کہ ' آئرن ڈوم ' سے اس ' ایرو سپیس ' نامی نظام نے زیادہ موثر کر دار ادا کیا جس سے منگل کی رات ایرانی میزائل حملے سے بچت ہو گئی ہے۔

'ایرو سپیس انڈسٹریز ' کے اعلی سطح کے ذریعے نے ' العربیہ ' کو بتایا ہے کہ ایرو سپیس نے ایرانی حملہ روکا ہے۔

واضح رہے منگل کی رات اور بدھ کے روز تک اسرائیلی ذرائع سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ایران نے راتوں رات چار سو میزائل فائر کیے۔ تاہم ایران نے بدھ کے روز بتایا کہ اس نے دو سو میزائل اسرائیل پر داغے تھے۔

اسرائیل نے ایرانی میزائل حملے کو روکنے کے لیے ' آئرن ڈوم ' کے علاوہ ' ایرو سپیس' کے ساتھ ساتھ اسرائیلی ، امریکی ، برطانوی اور فرانس کی فضائیہ کی بھی مدد حاصل کرنے کا انتظام پوری مستعدی سے کر رکھا تھا۔ جس کے بعد ایرانی حملے کے کارگر ہونے کا امکان کم ہی رہ گیا تھا۔

نتیجتا اسرائیل کے بقول ایرانی میزائل حملے کا فوجی اعتبار سے اثر نہ معمولی ہوا ہے۔ تاہم اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی کئی ایئربسز کو نقصان پہنچا ہے البتہ اسرائیلی فوجی آپریشنز کو کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا ہے۔

ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کے میزائلوں میں سے 90 فیصد اپنے ہدف تک پہنچے ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے زیادہ تر ایرانی میزائل روک دیے تھے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اسرائیلی ایرو سپیس کے ذمہ دار نے اسرائیلی فضائی دفاع میں اس ادارے کے کردار کے بارے میں اندرونی رپورٹس دکھائیں۔ نیز بتایا بیلیسٹک میزائلوں سے بچانے کے لیے یہ دفاعی نظام ہی موثر ہے۔ اس لیے ایرانی حملے کے خلاف کام ایا ہے۔

ترجمان نے سسٹم کے اجزاء کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ' یہ سسٹم دو قسم کے انٹرسیپٹرز پر مشتمل ہے ۔ ایرو 2 اور ایرو 3 فضا کے باہر اونچائی پر خطرات کو روکتا ہے، جب کہ ایرو سپیس 2 فضا کے اندر اور باہر دونوں طرح سے کم اونچائی پر بروئے کار ہوتا ہے۔

سسٹم کے آپریشنل عمل کی وضاحت کرتے ہوئے اس ذمہ دار نے کہا ' اس نظام کا ریڈار خطرات کو دیکھتا کرتا ہے اور دوسرے سسٹمز کے ساتھ مداخلت کرسکتا ہے۔ یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کو مداخلت کے نقطہ کا حساب لگانے کا موقع دیتا۔ اس کے بعد انٹرسیپٹر کو اس مقام کی طرف لانچ کر دیا جاتا ہے۔ اب انٹرسیپٹر کاکام ہے وہ آزادانہ طور پر اپنا ہدف حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ حملہ آور خطرے کو روکے۔

ان ذرائع کے مطابق ' اسرائیل کا یہ دفاعی نظام سات اکتوبر کے بعد زیادہ سرگرم ہوا ہے۔ کیونکہ کئی اطراف سے میزائل اور راکٹ حملے ہوتے ہیں۔ یہ اسرائیلی فضائیہ کے ساتھ مربوط ہے۔ اس کی 14 اپریل کو ایرانی میزائلوں کے پہلے حملے کے موقع پر بڑی آزمائش ہوئی تھی۔ اب دوسرا موقع تھا۔

یاد رہے ایران کے پہلے حملے کے بعد امریکہ نے بھی اپنے جنگی اثاثے خطے میں بڑھا کر نئی حملے کو روکنے میں کر دار ادا کیا ہے ۔ برطانوی رائل ایئر فورس نے بھی اور فرانس کے جنگی جہازوں نے بھی ایرانی حملہ روکنے میں اسرائیلی فضائیہ کا سرگرمی سے ساتھ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں