یمنی حوثیوں نے پیر کے روز اسرائیلی شہر جافا کی طرف میزائل فائر کیے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق ان میزائلوں کی تعداد صرف دو تھی ۔ مگر اس سے جافا میں خطرے کے سائرن بجنا شروع ہو گئے۔
دوسری جانب اسرائیل نے اس حوثی میزائل حملے کی جافا میں تصدیق تو کی ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس کی ایئر فورس نے اس حملے کو روک دیا ہے۔ واضح رہے جوں جوں اسرائیلی جنگ کا دائرہ مشرق وسطی کے اگلے علاقوں کی طرف پھیل رہا ہے ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی گروپوں کے میزائل حملوں کا ہدف اسرائیلی شہر تل ابیب، حیفا اور جافا بننے لگے ہیں۔
اس صورت حال میں اسرائیل میں شہری زندگی کبھی میزائلوں کی گھن گرج اور شور کی زد میں آتی ہے تو کبھی اسرائیلی فورسز کی طرف سے بجائے جانے والے خطرے کے سائرنوں کی زد میں آ جاتی ہے۔
اسرائیلی فوج نے پیر کے روز حوثیوں کی طرف سے جافا پر داغے گئے میزائلوں کے حوالے سے کہا ہے یہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل تھے۔ جن کی اطلاع ہوتے ہی جافا میں سائرن بجا دیے گئے تاکہ جافا کے عوام پناہ گاہوں میں چھپ کر ان میزائلوں سے محفوظ رہ سکیں۔
تاہم اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یمن سے آنے والے میزائلوں کو فوج نے راستے میں کامیابی سے روک لیا ہے۔ اسرائیلی فوجی بیان میں ان میزائلوں کے ساتھ صرف یمن کا نام لیا ہے یمنی حوثیوں کانام نہیں لیا گیا ہے۔
حوثیوں کے مطابق ایک میزائل فلسطین دو نام سے فائر کیا گیا تھا جو کامیابی سے اپنے ہدف تک پہنچ گیا۔ البتہ حوثیوں نے بھی نہیں بتایا کہ ہدف کیا تھا اور نقصان کس قدر کر سکا۔
حوثیوں کے بیان کے مطابق دوسرے میزائل کانام ضو الفکر تھا ۔ اس کا نتیجہ کیا رہا اس بارے میں حوثیوں کے بیان میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔