بحیرۂ روم کے گرد و پیش کے نو یورپی ممالک کے رہنما جمعے کو قبرص میں شرقِ اوسط میں جاری جنگوں پر گفتگو کرنے کے لیے ملاقات کر رہے ہیں جن سے وہ متأثر ہوئے ہیں لیکن ان پر اثر انداز ہونے کی محدود صلاحیت رکھتے ہیں۔
قبرص کے شہر پافوس میں ہونے والے ایک روزہ اجلاس میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کے ساتھ فرانس، اٹلی، سپین، پرتگال، یونان، قبرص، مالٹا، سلووینیا اور کروشیا کے سربراہانِ مملکت (حکومت) شریک ہوں گے۔
یورپی یونین کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ کی وجہ سے بے گھر ہونے والے یا غربت سے بھاگنے والے تارکینِ وطن کے لیے اٹلی، یونان اور سپین جیسے ممالک یورپی یونین میں آمد کے اہم مقامات ہیں اور سال کے پہلے نصف میں تقریباً 55,000 افراد نے بحیرۂ روم عبور کیا۔
اسرائیل کی غزہ پر جاری بمباری، لبنان پر اس کی بڑھتی ہوئی یلغار اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک وسیع تر علاقائی تنازعہ کے خدشات پیدا کیے ہیں جس سے تارکینِ وطن کی آمد کے ساتھ ساتھ یورپ کی سلامتی اور معیشت پر بھی خاصا اثر ہو گا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ایک معاون نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ شرقِ اوسط میں "ہمارے لیور محدود ہیں لیکن یہ یورپی سطح پر مزید ایسا مقام پیدا کرنا ہے جہاں لوگ دو یا تین جگہوں سے آ کر جمع ہوں۔"
گذشتہ ہفتے کے آخر میں اسرائیلی حکومت میکرون کی اس تجویز پر ناراض ہو گئی کہ ممالک کو "غزہ میں لڑنے کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی بند کر دینی چاہیے" جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا فرانس خود کوئی ہتھیار فراہم نہیں کر رہا تھا۔
فرانسیسی معاون نے کہا کہ یورپی یونین تاریخی طور پر فلسطینی علاقوں میں انسانی ہمدردی کے منصوبوں کے سب سے بڑے مالی معاونین میں سے ایک رہی ہے اور جمعے کے اجلاس میں "غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافے" پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
امدادی کارکنان کہتے ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں امداد کی ترسیل پر بہت زیادہ پابندی لگا دی ہے یعنی ہسپتالوں اور کلینکوں میں فراہمی کی کمی ہے جبکہ خوراک کی کمی نے لوگوں میں غذائی قلت اور بیماری میں مزید اضافہ کیا ہے۔
فرانسیسی معاون نے بات جاری رکھی، "یورپی یونین کے مغربی کنارے کے لیے مزید کام کرنے کے طریقے اور فلسطینی اتھارٹی کو تقویت دینے کی ضرورت کے بارے میں بات کرنے کا بھی یہ ایک موقع ہو گا۔"
قبرص میں جمعے کی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل دیگر معاملات میں جنگل کی آگ، یورپی یونین کی مسابقت اور یورپی یونین-اردن کے دو طرفہ تعلقات جیسے مسائل پر رابطہ کاری شامل ہیں۔