اسرائیل کی فوج کی لبنان میں دو ہفتے سے جاری جنگ میں شدت کے دوران ایران نواز گروپ حزب اللہ کو بھاری قیمت چکانا پڑی ہے اور اس کے کئی سرکردہ لیڈر جن میں حسن مصراللہ اور ہاشم صفی الدین جیسے دبنگ رہ نما بھی مارے گئے ہیں۔
لبنان میں حزب اللہ کو ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے بعد خطے میں ایرانی حمایت یافتہ دھڑوں کےمستقبل کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔
اسرائیل نہ صرف غزہ اور لبنان میں ایران نواز قوتوں سے نبرد آزما ہے بلکہ اس نے شام کو بھی نشانے پر رکھ لیا ہے۔ آئے روز شام میں دارالحکومت دمشق، حمص، دیر الزور، حلب اور درعا کے دیہی علاقوں میں ان گروہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھتے ہیں۔
اسرائیل برسوں سے ان ملیشیا کے ہیڈکوارٹرز اور مراکز کو مسلسل نشانہ بنا رہا ہے، لیکن لبنان میں حالیہ کشیدگی کے بعد اسرائیل نے حمص، دمشق اور درعا کے دیہی علاقوں میں حملوں کی تعداد اور شدت دونوں بڑھا دیےہیں۔
اسرائیلی حملے ان ملیشیا کے مستقبل پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں خاص طور پر چونکہ وہ مقبوضہ گولان اور عراق کی سرحد کے قریب سرحدی علاقوں میں واقع ہیں؟۔
ملیشیا کا خطرہ ختم ہو گیا ہے؟
اس سوال کے جواب میں ایک عسکری تجزیہ کار اور سکیورٹی اسٹڈیز کے محقق نے نشاندہی کی کہ "یہ ملیشیائیں بحرانوں کی بنیادیں اورجڑیں بنانے اور خطے میں ہونے والی جنگ کی بنیادبناتی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ نظریہ علاقوں کی وحدت اور ہتھیار لے جانے والے اور دھمکی دینے کی صلاحیت رکھنے والی ملیشیاؤں کی موجودگی مؤثر طریقے سے ختم ہو گئی ہے۔
اردن کے سکیورٹی تجزیہ کار عامر السبیلہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو مزید کہا کہ "ہم فی الحال ان ملیشیا کو ختم کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ خطے کی مضبوط ترین تنظیموں کو نشانہ بنانا ہے۔اس لیے لامحالہ اور واضح طور پر حملوں کی ہدایت زیادہ تر ملیشیاؤں پر کی جائے گی"۔
انہوں نے کہا کہ "حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان موجودہ جاری جنگ کا دوسرا مرحلہ ان ملیشیا کا خاتمہ ہو گا۔ یہ دھڑے اکثر اپنے بنیادی فنانسر کی عدم موجودگی سے تحلیل ہو جاتے ہیں۔"
لیکن انہوں نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ یہ گروپ مقامی گروہوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ شام اور اسرائیل کی سرحد پر ایک اور منظر نامہ بن سکتا ہے۔
شام میں سلامتی کا خطرہ
شام کے سیاسی تجزیہ کار غسان ابراہیم نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ ان ملیشیا کے خاتمے سے کوئی بھی "سکیورٹی خلا" پیدا ہو جائے گا۔ یہ شامی ادارے میں بنیادی طور پر ایک حفاظتی خامی کا اشارہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ شامی حکومت کو "یا تو ایرانیوں کو راضی کر کے یا روسیوں پر بھروسہ کرکے ان کی حمایت سے اسے ہٹانا چاہیے، کیونکہ یہ ملیشیا اسرائیلیوں کو لبنان سے شام منتقل کرنے کے لیے دھکیل سکتی ہیں"۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس مسئلے کو نظرانداز کیا گیا اور شام جاری لڑائیوں میں شامل ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یقینی طور پر ایران اس کے دفاع کے لیے نہیں آئے گا۔ ایران نہ تو شامی رجیم کی مدد کرے گا نہ دمشق کی کیونکہ اس بار جنگ مختلف ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ان ملیشیا کے فوجی مقامات اور ہیڈ کوارٹر ہیں جن میں ان کے ہزاروں ارکان موجود ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے کچھ علاقوں میں سول اور سروس کے ادارے ہیں۔