سعودی عرب سے امدادی سامان لے کر طیارے آج اتوار کو لبنان روانہ ہوں گے۔ یہ طیارے ہنگامی طبی سامان، دیگر امدادی اور غذائی سامان لے جانے والے پہلے طیارے بیروت کے رفیق حریری ایئرپورٹ پر پہنچیں گے۔
العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں کے مطابق پہلے سعودی طیارے میں لبنان میں جنگ کے متأثرین کی مدد کے لیے 40 ٹن سے زائد امدادی سامان شامل تھا۔
امدادی کارروائیوں کے لیے سعودی طیارے کے ساتھ امدادی ٹیم بھی موجود ہے۔
گذشتہ چند ہفتوں میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے کیونکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان، بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں اور وادی بقاع پر بمباری کی اور سرحد پار زمینی فوج بھیجی جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے سینیئر رہنماؤں کی بڑی تعداد ہلاک ہو گئی۔
حزب اللہ نے بھی اسرائیل کے اندرونی علاقوں پر جوابی راکٹ داغے۔
ایک ملین سے زائد لوگ بے گھر
لبنانی حکومت کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 23 ستمبر سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تقریباً ایک اعشاریہ دو ملین افراد گھر چھوڑ چکے ہیں۔
لبنان کی وزارتِ صحت نے ہفتے کے روز کہا کہ لڑائی کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 2,255 تک پہنچ گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے آج کہا کہ بے گھر ہونے والے لبنانیوں کی تعداد اب 2006 کی نسبت زیادہ ہے جب اسرائیل اور حزب اللہ کے مابین آخری بڑی جنگ کے دوران تقریباً دس لاکھ لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر چلے گئے تھے۔