امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے لبنانی نگران وزیر اعظم نجیب میقاتی سے ملاقات میں کہا ہے کہ 'ایران اور حزب اللہ کو لبنانی سلامتی و استحکام میں رکاوٹ نہیں ہونا چاہیے۔'
امریکی وزیر خارجہ نے یہ ملاقات مشرق وسطیٰ کے دورے کے بعد لندن میں کی ہے۔ انٹونی بلنکن نے سات اکتوبر 2023 سے اب تک مشرق وسطیٰ کے 11 دورے کیے ہیں۔
امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے نگران وزیر اعظم سے کہا 'لیڈر شپ کو طاقتور کرنے کی ضرورت ہے، ایسی لیڈر شپ جو عوامی رائے کی بنیاد پر ہو۔'
خیال رہے لبنانی وزیر اعظم اور امریکی وزیر خارجہ کے درمیان یہ ملاقات لندن میں جمعہ کے روز ہوئی ہے۔ ملاقات میں خطے کی صورت حال، اسرائیل اور حزب اللہ کی جنگ اور لبنان کے لیے درپیش چیلنج زیر بحث آئے ہیں۔ لبنانی شہریوں کی ہلاکت کے علاوہ 'یونیفل' پر اسرائیلی گولہ باری پر بھی بات کی گئی۔ میقاتی نے اس موقع پر لبنان کے صدارتی انتخابات پر بھی امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار سے تبادلہ خیال کیا۔
واضح رہے لبنانی دارالحکومت کو اسرائیل نے اپنی بمباری کے لیے آسان ترین ہدف بنا لیا ہے جب چاہتا ہے بیروت پر بمباری کرتا ہے اور بیروت میں ملبے کے ڈھیروں میں اضافہ کر دیتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا ' امریکہ مسئلے کے سفارتی حل کے لیے کمٹڈ ہے۔ نیز سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 1701 کا پوری طرح نفاذ چاہتا ہے۔ تاکہ لبنانی اور اسرائیلی شہری لوٹ کر اپنے گھروں کو واپس جا سکیں۔
خیال رہے سلامتی کونسل کی قراراداد نمبر 1701 اسرائیل اور حزب اللہ کی 2006 کی جنگ کے تناظر میں قیام امن کے لیے سامنے لائی گئی تھی۔ لیکن اس پر پوری طرح عمل نہیں ہوا ۔ اسی قرارداد کی بنیاد پر حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی تدبیر کی جارہی ہے۔