اسرائیلی وزیر دفاع کی طرف سے اس امر کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ساری کامیابیاں جنگ کے ذریعے ممکن نہیں ہیں۔ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہمیں تکلیف دہ رعیتیں دینا پڑیں گی۔ اس امر کا اظہار اسرائیلی وزیر دفاع نے عبرانی کیلنڈر کے سلسلے میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔
انہوں نے بڑے صاف الفاظ میں کہا کہ ہمیں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اور انہیں محفوظ بنانے کے لیے رعایتیں دینا لازمی ہوگا۔ تاہم یوو گیلنٹ نے حماس کا نام لیے بغیر یہ گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا سب کچھ اکیلے جنگ یا فوج کے ذریعے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے ایک سال میں اپنا کام بہت اچھی طرح مکمل کیا ہے۔ اور ہم نے اپنے جنوب میں حماس کو عسکریت سے روک دیا ہے۔ اس کا عسکری ڈھانچہ تباہ کر دیا ہے اور شمال میں حزب اللہ کی لیڈرشپ کو ختم کر دیا ہے اور اس کی میزائل صلاحیت کو ناکارہ بنا دیا ہے۔
خیال رہے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران 42924 فلسطینینی قتل ہو چکے ہیں۔ جن میں بڑی تعداد فلسطینی خواتین اور بچوں کی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی یہ جنگ غزہ سے نکل کر لبنان اور ایران تک پھیل چکی ہے۔
-
اسرائیلی حملے کو بڑھا چڑھا کر یا کم بتا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے : علی خامنہ ای
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ہونے والے ...
بين الاقوامى -
حماس اور حزب اللہ اب ایران کے لیے مؤثر اور مفید نہیں رہے : اسرائیل
اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے لیے غزہ کی پٹی میں حماس اور ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی و امریکی وزیر دفاع کےدرمیان گفتگو،ایران پر حملے میں اسرائیلی کامیابیوں کاجائزہ
اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے امریکی ہم منصب لائیڈ آسٹن کو ایران پر کیے گئے ...
بين الاقوامى