ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ جنگ سے تباہ ہونے والی شمالی غزہ کی پٹی میں صورتحال تباہ کن ہے۔ صحت کے اداروں میں اور ان اداروں کے اطراف میں شدید فوجی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ ٹیڈروس ادھانوم گیبریسوس نے وضاحت کی کہ ایک سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے ساتھ شمالی غزہ کی پٹی اس وقت جنگ کے تاریک ترین لمحات سے گزر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی طرز عمل کو ظالمانہ جرائم کے طور پر شمار کیا جا سکتا ہے۔ 16 اکتوبر کو اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں حماس کے رہنما یحییٰ السنوار کے قتل کے بعد اسرائیل جنگ بندی مذاکرات کی بحالی کے ساتھ ساتھ شمالی غزہ پر جارحیت کو مزید تیز بھی کر رہا ہے۔
42 ہزار سے زیادہ فلسطینی قتل
غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کی وزارت صحت نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی تحریک کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں 42,924 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ وزارت کے مطابق اس تعداد میں گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران کی 77 اموات بھی شامل ہیں۔ سات اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والے قتل عام میں اسرائیل نے 100833 فلسطینیوں کو زخمی بھی کردیا ہے۔