'انروا' پر پابندیاں لگانے کا اسرائیلی اقدام قابل مذمت ہے: قطر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

غزہ میں جنگ بندی کے لیے اہم ثالث ملک قطر نے اسرائیلی پارلیمان کے 'انروا' پر لگائی گئی پابندیوں کے فیصلے کی منگل کے روز سخت مذمت کی ہے۔' کنیسٹ' نے پیر کے روز کثرت رائے سے منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت 'انروا' پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

دنیا بھر سے اس فیصلے پر اسرائیل کے قانون سازوں اور اسرائیل کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے بہت خاص اتحادیوں بشمول امریکہ و یورپی ممالک نے بھی اسرائیل کی تنقید کی ہے۔

'انروا' کا ادارہ 1949 سے کام کر رہا ہے اور اسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایک قرارداد کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ تاکہ مشرق وسطیٰ میں پھیلے ہوئے بےگھر فلسطینیوں کے لیے امدادی سرگرمیاں کر سکے اور ان کے بچوں کو پڑھانے کا راستہ سوچ سکے ۔ نیز ان کے طبی مسائل کے حل کے لیے ہسپتال اور ڈسپنسریاں قائم کر سکے۔

تاہم اسرائیل سالہا سال سے 'انروا' کے ناقدین میں شامل ہے اور اس کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح فلسطینیوں کو ریلیف دینے والے اس ادارے کو بند کرانے میں کامیاب ہو جائے۔

اسرائیلی قانون سازوں نے اس موقع پر ایک قرارداد پاس کی کہ اسرائیلی شہری 'انروا' کے ساتھ کام نہیں کر سکیں گے۔ گویا 'انروا' یا اس کے ساتھ کام کرنے والے اسرائیلی شہریوں کے لیے رابطے میں آنا ہی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔

قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان مجید الانصاری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'انروا' کی امداد روکنا خطرناک نتائج سامنے لائے گا۔ اسرائیل کی طرف سے 'انروا' کی سرگرمیاں روکے جانے پر عالمی برادری کو خاموش نہیں رہنا چاہیے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں