غزہ :انسانی بنیادوں پرامداد کی ترسیل کےلیے امریکی الٹی میٹم کےباوجود اسرائیل کاعملی انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ میں انسانی بنیادوں پر سامان کی ترسیل کے لیے دیے گئے امریکی الٹی میٹم کے باوجود اسرائیل انسانی بنیادوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دینے سے بچنے میں 'کامیاب' رہا ہے۔ اسرائیل سے انسانی بنیادوں پر اقوام متحدہ ، اس کے سارے ذیلی ادارے اور حتٰی کہ بین الاقوامی برادری بار بار اپیل کر چکی ہے مگر اسرائیل انسانی بنیادوں پر سوچنے یا اقدامات کرنے کی طرف آنے کا نہیں ہے۔

حد یہ ہے کہ امریکی الٹی میٹم کو بھی اسرائیل عمل کے قابل سمجھنے سے عملاً انکاری ہے۔ خیال رہے امریکہ نے اسرائیل کو 30 دنوں کا الٹی میٹم دیا تھا کہ اسرائیل اس دوران اپنی کار گزاری کچھ بہتر بنائے بصورت دیگر اسرائیل کی فوجی امداد میں کچھ کمی کا خدشہ ہو سکتا ہے۔

اس سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے 13 اکتوبر کو اسرائیل کو ایک خط لکھا تھا ، لیکن اسرائیل نے اس خط میں دی گئی ڈیڈ لائن اور مطالبات کو پورا کرنے سے گریز ہی کی پالیسی کو جاری رکھا ہوا ہے۔ گویا اس سلسلے میں امریکی ہدایت بھی کافی نہیں سمجھی جا سکتی ہے۔

اس کی تصدیق اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کی مشترکہ کمیٹی کے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی بمباری اور اس تباہی کے علاوہ غزہ کی پٹی پر بالعموم اور شمالی غزہ میں بالخصوص جاری صورت حال کو جس طرح بیان کیا ہے اس میں غزہ میں انتہائی بنیادی اشیائے ضروریہ کو بھی غزہ کے جنگ زدہ فلسطینیوں کے نزدیک نہیں جانے دیا ہے۔ اس وجہ سے اقوام متحدہ کے ذمہ دار ترین عہدے داروں نے بھوک ، بیماری اور قحط کا بھی غزہ میں خوف بتایا ہے۔

دونوں امریکی وزرا نے اسرائیل کے لیے اپنے خط میں غزہ کی بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال میں بہتری کا مطالبہ کیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل کوراہداریوں سے ایک دن میں کم از کم 350 ٹرکوں کی اجازت دینی چاہیے جو اشد ضروری خوراک اور دیگر سامان لے کر غزہ جاسکیں۔ بلا شبہ ان کے نزدیک امریکی صدارتی انتخاب کے دوران غزہ جنگ کے مخالف ووٹروں کو کچھ باور کرانا بھی ضروری تھا۔

مگر اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق اسرائیل نے اس امریکی الٹی میٹم کے بعد بھی اکتوبر کے آخر تک روزانہ اوسطاً صرف 71 ٹرک غزہ میں داخل ہونے دیے۔ گویا امریکی ہدایت پر آدھا عمل بھی نہیں کیا گیا۔

اب وزیرخارجہ بلنکن نے کہا کہ وہ دفتر خارجہ اور پینٹاگون کے خط پر اسرائیل کے ردعمل کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس میں قدرے بہتری ہے مگرکافی نہیں۔ ہم اس کا ہر روز کی بنیاد پر جائزہ لے رہے ہیں۔ اسرائیل کے لیے ضروری ہے کہ جو امدادی سامان والے ٹرک آئیں انہیں غزہ جانے دے۔

اہم بات ہے کہ بلنکن اور آسٹن کے خط کے ذریعے جوبائیڈن انتظامیہ نے بڑا سخت موقف اپنایا ہے۔ اس سے پہلے پورا سال امریکہ نے ایسا مطالبہ اسرائیل سے نہیں کیا تھا، البتہ صدارتی انتخاب کے قریب پہنچ کر یہ مطالبہ کیا گیا ہے۔ بہت سے ڈیموکریٹ ووٹر یہ واضح مطالبہ رکھتے ہیں کہ جوبائیڈن انتظامیہ اسرائیلی فوجی امداد بند کرے۔ حتیٰ کہ جب اسرائیلی محاصرے اور مسلسل بمباری کی وجہ سے غزہ کی پٹی پر موت ، بھوک اور قحط کا بیک وقت حملہ ہے اور ان سب کا ذمہ دار اسرائیل ہے۔

انہی ووٹرز کو غالباً مطمئن کرنے کی اس خط میں کوشش ہے مگر اسرائیل امریکہ کی بات پر بھی کان دھرنے کو تیار نہیں ہے۔ بلکہ اس نے اسی دوران اقوام متحدہ کی فلسطینیوں کے لیے کام کرنے والی سب سے اہم ریلیف ایجنسی 'انروا ' پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں