سعودی عرب کا دنیا سے زمین کو بنجر ہونے سے بچانے کے لیے عملی اقدامات پر زور
مملکت کا’COP 16‘ ریاض میں زمینی انحطاط کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ
ریاض میں ہونے والی COP 16 کانفرنس میں مملکت سعودی عرب نے عالمی برادری سے قحط سالی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سخت اقدامات کرنے ، زمینوں کی بحالی اور ان کی زرخیزی کو بحال کرنے کے لیے کام کرنے پر زور دیا ہے۔
مملکت کی طرف سے یہ اپیل ریاض میں اقوام متحدہ کے کنونشن ٹو کامبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن COP16) ) کے سولہویں اجلاس کے آغاز سے ایک ماہ قبل اس کی تیاریوں کے ضمن میں سامنے آئی ہے۔ جہاں اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا شدید بحران کا شکار ہے۔ توقعات اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا کئی ممالک ممالک کے رقبے کے برابر یا اس سے زیادہ کارآمد زمین کھو دے گی۔
ماہرین کے لیے موقع
اقوام متحدہ کے کنونشن ٹو کامبیٹ ڈیزرٹیفیکیشن COP16) ) کے فریقین کی سولہویں کانفرنس کے صدر کی حیثیت سے مملکت نے اس بات پر زور دیا دو دسمبر کو منعقد ہونے والی کانفرنس میں زمینی کی بحالی کے لیے کی جانے والی والی سرگرمیاں ماہرین، سرکاری، نجی اور غیر منافع بخش شعبوں کو فائدہ دیں گی۔ اس کانفرنس میں زمین کے انحطاط کو کم کرنے کے لیے سائنسی اور عملی حل تلاش کرنے کا موقع ملے گا، اس کے علاوہ دنیا میں زمین کی بحالی کے لیے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھانے کا امکان ہے۔
سعودی عرب کی وزارت ماحولیات کے میں کے انڈر سیکرٹری ڈاکٹر اسامہ فقیہا جوکہ ریاض میں COP16 کے صدر کے مشیر بھی ہیں نے کہا کہ "یہ کانفرنس بین الاقوامی برادری کے لیے ایک فیصلہ کن لمحے کی نمائندگی کرتی ہے، کیونکہ اس کا مقصد کام کرکے زمینی انحطاط کو دور کرنا ہے۔ اجتماعی طور پر صحرا بندی سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن کے ہدف کے حصول کے لیے کوششیں تیز کرنا ہے جس کا مقصد 2030ء تک 1.5 بلین ہیکٹر بنجر زمینوں کو دوبارہ آباد کرنا ہے۔
زمین کی بحالی کے اہداف کا حصول
انہوں نے مزید کہا کہ "اس کانفرنس کے میزبان ملک کے طور پر ہم تمام فریقین کو ریاض میں اس مشن میں ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
بہت سے ممالک 2015ء سے زمین کے انحطاط کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے رضاکارانہ اہداف اپنا رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے مطابق عالمی سطح پرزمین کے بنجر ہونے کے دائرے کو کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس وقت 130 سے زائد ممالک اس پروگرام میں حصہ لے رہے ہیں 100 سے زائد ممالک پہلے ہی اپنے اہداف کا انتخاب کر چکے ہیں۔
صحرا بندی سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن کا آئندہ سولہواں اجلاس سعودی عرب کی میزبانی میں ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اس اجلاس میں زیادہ سے زیادہ عالمی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کررہی ہے۔
صحرا بندی سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے کنونشن کا تخمینہ ہے کہ 44 ٹریلین ڈالرہے جو کہ سالانہ عالمی جی ڈی پی کے نصف سے زیادہ ہے۔
-
سعودی عرب کی اہم دریافت : بحیرہ احمر میں سمندری کچھوؤں کے گھونسلے تلاش کر لیے
'سعودی جنرل آرگنائزیشن' نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں سمندری کچھوؤں کے گھونسلے ...
مشرق وسطی -
سیاحت کے میدان میں سعودی عرب کی ترقی ،عالمی رینکنگ میں 15 ویں سے 12 ویں پوزیشن
اقوام متحدہ کی سیاحتی رپورٹ کے مطابق سال 2023 میں سعودی عرب نے دنیا کے سیاحت کے ...
مشرق وسطی -
مراکش میں سعودی عرب کے تعاون سے نابینا پن کی روک تھام کا ہفت روزہ پروگرام اختتام پذیر
شاہ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر زیر اہتمام مراکش بولمان علاقے میں ...
مشرق وسطی