پیجر بم دھماکوں میں زخمی ہونے والےایرانی سفیر جلد بیروت میں ہوں گے:ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں گذشتہ 17 ستمبر کو ہونے والے پیجر بم دھماکوں میں زخمی ہونے کے بعد العربیہ/الحدث ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں ایران کے سفیر مجتبیٰ امانی جلد ہی بیروت میں اپنے ملک کے سفارت خانے میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے واپس آئیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سفیر کی آنکھوں کے ایک سے زیادہ آپریشن ہوئے جس کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ اپنی بینائی کو کافی حد تک بحال کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

محمد شیبانی

قابل ذکر ہے کہ مجتبیٰ امانی کے زخمی ہونے کے بعد سفیر محمد شیبانی نے بیروت میں ایرانی سفارت خانے کی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔

شیبانی اس سے قبل لبنان میں اپنے ملک کے سفارتی مشن کی سربراہی کر چکے ہیں اور حزب اللہ اور امل موومنٹ میں شیعہ شخصیات تک محدود نہیں بلکہ ایک سے زیادہ جماعتوں کے ساتھ تعلقات رکھتے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بیری کے ساتھ بھی رابطوں میں رہتے تھے۔

شیبانی مرحوم وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور موجودہ وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بھی مشرق وسطیٰ میں ایرانی وزارت خارجہ کے نمائندے کی حیثیت سے بیروت اور خطے کے دیگر دارالحکومتوں کے ایک سے زیادہ دورے پر تھے۔

100 سے زیادہ

ایرانی حکام نے مجتبیٰ امانی کو حزب اللہ کے 100 سے زائد کارکنان اور ارکان کے ہمراہ تہران منتقل کیا تھا۔ ان کی آنکھوں، ہاتھوں اور جسم کے دیگر اعضاء پر شدید چوٹیں آئی تھیں۔

ایک لبنانی شخصیت نے بھی العربیہ/الحدث کو بتایا کہ انہوں نے تہران اور دیگر شہروں کے ایک سے زیادہ ہسپتالوں میں علاج کروایا۔ ان میں سے اکثر صحت یاب ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ پیجر اور وائرلیس ڈیوائس کے دھماکوں سے زخمی ہونے والوں کا ایک اہم گروپ جو بیروت کے ہسپتالوں میں زیر علاج تھا کو حزب اللہ کے اداروں میں اپنا کام جاری رکھنے کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 17 ستمبر کو لبنان کے متعدد علاقوں میں بیک وقت ہونے والے پیجر بم دھماکوں میں حزب اللہ کے متعدد ارکان سمیت تقریباً 3000 افراد زخمی اور درجنوں ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں