اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز کہا کہ اس نے گذشتہ روز لبنان میں 100 سے زیادہ "دہشت گردانہ اہداف" کو نشانہ بنایا اور ہفتے کے آخر میں حزب اللہ کے دو کمانڈروں کو "ختم" کر دیا۔
فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اہداف میں "لانچرز، ہتھیاروں کے ذخیرہ کرنے کی سہولیات، کمانڈ سینٹرز اور فوجی ڈھانچے" شامل تھے۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکی ایلچی آموس ہوچسٹین اسرائیل-حزب اللہ جنگ بندی معاہدہ طے کرنے کے سلسلے میں لبنان میں تھے۔
فوج نے یہ بھی کہا کہ "اتوار کو فضائیہ نے ساحلی علاقے میں حزب اللہ کے ٹینک شکن میزائل اور آپریشن یونٹ کے کمانڈروں کو ختم کر دیا" جو "اسرائیلی شہریوں کے خلاف دہشت گردانہ حملوں کے ذمہ دار تھے۔"
فوج نے مزید کہا کہ فوجیوں نے جنوبی لبنان میں "محدود، مقامی اور ہدفی چھاپے" جاری رکھے۔
اسرائیل نے ستمبر کے آخر سے اپنی جنگ کا مرکز غزہ سے لبنان تک وسیع کر دیا ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے کم شدت والے حملوں کی وجہ سے تقریباً 60,000 اسرائیلی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
-
تدمر پر اسرائیلی حملے میں چار ایران نواز مزاحمت کار ہلاک
ریستوران اور رہائشی عمارت نشانہ بنیں، چھے افراد زخمی بھی ہوئے
مشرق وسطی -
عراق نے عسکریت پسندوں کے حملے نہ روکے تو اسرائیلی کارروائی ہوسکتی ہے:ذرائع
ذرائع نے ’العربیہ‘ اور الحدث کو بتایا کہ امریکہ نے بغداد کو مطلع کیا کہ اس نے ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کی غزہ جنگ کے دوران ستر فیصد عورتوں اور بچوں سمیت 43985 فلسطینی قتل
غزہ میں سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی جنگ کے ان 13 ماہ سے زائد عرصے میں 43985 ...
مشرق وسطی