اسرائیل لبنان جنگ بندی مشن ، آموس ہوچسٹن لبنان کے بعد اسرائیل پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی خصوصی نمائندے آموس ہوچسٹن اسرائیل اور لبنان میں جنگ بندی کے مشن پر بدھ کے روز اسرائیل پہنچے ہیں۔ وہ منگل کے روز اسی مقصد کے پیش نظر بیروت پہنچے تھے۔ جہاں ہوچسٹن نے لبنانی حکومتی عہدے داروں کےساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ لبنانی حکومت اورحزب اللہ نے امریکی نمائندے کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں امریکہ سے کچھ وعدے بھی لینے کی کوشش کی گئی ہے۔

امریکی نمائندے نے لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری سے دوبارہ ملاقات کی ہے ۔ آموس ہوچسٹن نے اس ملاقات کے بعد کہا ' آج کی ملاقات کی بنیاد کل کی ملاقات تھی۔ دریں اثنا ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ نے بھی لبنانی حکومت کی طرف سے اختیار کیے موقف کی تائید کی ہے۔

لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر کے ساتھ اپنی دوسری ملاقات کے بعد ہوچسٹن نے کہا ' اب میں اگلے دو گھنٹوں کے دوران اسرائیل جا رہا ہوں۔ کہ ہم اس جنگ کے خاتمے کے لیے جو کرنے آئے ہیں اسے مکمل کریں۔ ہماری سفارت کاری کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے۔'

ان کا کہنا تھا ' جب سے اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف بمباری شروع کی ہے بہت تباہی ہو چکی ہے۔ ملک کے وسیع حصے میں بمباری کا دائرہ پھیل چکا ہے اور اسرائیل لبنان کے اندر فوج بھی بھیج رہا ہے۔'

اسرائیل جس کے وزیر اعظم نے ایک سے زائد بار لبنان کو غزہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ پچھلے تقریباً دو ماہ سے لبنان پر زمینی حملہ بھی کر چکا ہے۔ تاہم اب اسرائیل کا زور اسی بات پر نظر آرہا ہے کہ وہ شمالی اسرائیل سے حزب اللہ کے راکٹ حملوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے اسرائیلیوں کو واپس اپنے گھروں تک لانا چاہتا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنا اسرائیل کے لیے ضروری ہے۔

واضح رہے حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ اپنی جھڑپوں کا آغاز غزہ میں اسرائیلی بمباری کے خلاف اور حماس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے 8 اکتوبر 2023 کو کیا تھا۔ یہ 2006 کے بعد حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان شدید ترین جنگ ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل نے جنگ بندی مان لی تو حزب اللہ بھی اس جنگ بندی کے بعد اسرائیلی فوج، تنصیبات اور شہروں کو نشانہ نہیں بنائے گا۔

حزب اللہ جسے اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی اسرائیلی بمباری سے ہلاکت کے باعث سخت دھچکا لگا ہے۔ مگر وہ اس کے باوجود آج بھی اسرائیلی شہروں کو راکٹوں اور میزائلوں سے نشانہ بنارہی ہے۔ بلکہ اکتوبر سے حزب اللہ پر راکٹ اور میزائل حملے بڑھ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے گھر تک کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

آموس ہوچسٹن نے کہا ' ہم اگلی امریکی انتظامیہ کے ساتھ بھی ان موضوعات پر بات کرنے کے لیے پہلے ہی تیار ہیں۔ وہ اس امر سے پوری طرح آگاہ ہوں گے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں نئی انتطامیہ کے ساتھ بھی مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں