امریکی صدر کے خصوصی ایلچی آموس ہوچسٹین کے اس ہفتے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی تک پہنچنے کی کوشش میں لبنان اور اسرائیل کے دورے کے بعد امید کے آثار ابھرتے نظر آرہے ہیں۔ اسرائیلی اخبار ’’ یدیعوت احرونوت‘‘ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے ہفتے کی شام کو انکشاف کیا کہ اگلے ہفتے لبنان میں کسی معاہدے تک پہنچنے کا ایک "اچھا موقع" ہے۔ جمعرات کو اسرائیلی فوج کی قیادت نے سیاسی رہنماؤں کو آگاہ کیا تھا کہ وہ لبنان میں جنگ بندی کی حمایت کرتی ہے۔ العربیہ یا الحدث ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی فوج اور سکیورٹی سروسز کی قیادت نے سیاسی سطح پر آگاہ کیا ہے کہ وہ لبنانی محاذ پر جنگ بندی کو قبول کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے یہ عندیہ بھی دیا کہ وہ لبنان کی جانب سے مستقبل میں کسی بھی خلاف ورزی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
مثبت ماحول
یہ معلومات بدھ کو بیروت کا دورہ کرنے والے اور لبنانی حکام سے ملاقات کرنے والے آموس ہوچسٹین کے ماحول کے مثبت ہونے کی تصدیق کے بعد سامنے آئی۔ ہوچسٹین نے وضاحت کی کہ وہ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ بھی مل کر جنگ بندی کے معاملے کی پیروی کر رہے ہیں۔
امریکی حکومت نے کہا ہے کہ اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف اپنی جنگ میں کچھ اہم اہداف حاصل کر لیے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ قریب ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بدھ کی شام واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اسرائیل گزشتہ دو مہینوں کے دوران حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے میں کامیاب رہا ہے اور اسی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ اب سفارتی حل تک رسائی ممکن ہے۔
60 دن
واضح رہے آموس ہوچسٹین نے لبنانی حکام کے ساتھ جنگ بندی کے لیے ایک امریکی تجویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ اس تجویز میں 60 دنوں کے لیے ابتدائی جنگ بندی کا کہا گیا ہے۔ اس دوران اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے پیچھے ہٹ جاتی ہے اور لبنانی فوج سرحد پر تعینات ہوجائے۔ اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو توقع ہے کہ لبنان اور اسرائیل اس کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے 18 سال قبل جاری کردہ قرارداد 1701 پر مکمل عمل درآمد کے حوالے سے مذاکرات شروع کردیں گے۔ یہ قرار داد لبنانی فوج اور اقوام متحدہ کی امن فوج کو دریائے لیتانی کے جنوب میں واقع علاقوں، جو اسرائیل کے ساتھ اصل سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور ہیں، میں تنہا کام کرنے اور فیصلہ سازی کا اختیار دیتی ہے۔
یاد رہے اسرائیل نے اپنے حکام کے ذریعے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اسے لبنانی فضائی حدود میں نقل و حرکت کی آزادی اور اگر ضروری سمجھے تو حملہ کرنے والی مقامات کی اجازت نہ دے ۔ یہ ایک ایسا مطالبہ ہے جسے لبنانی حکام قبول نہیں کر سکتے کیونکہ اس سے ریاست کی خود مختاری کے اصول کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
واضح رہے گذشتہ ستمبر سے اسرائیل نے لبنان کے متعدد علاقوں بالخصوص جنوبی علاقوں اور بیروت کے جنوبی مضافات میں اپنے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ یکم اکتوبرکو اسرائیل نے لبنان میں ایک زمینی آپریشن بھی شروع کردیا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں لبنان میں کم از کم 3,650 افراد جاں بحق اور 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہوگئے ہیں۔ حزب اللہ سے اس تصادم میں گزشتہ دو ماہ کے دوران تقریباً 90 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔