عراقی وزیرِ اعظم محمد شیعہ السوڈانی نے پیر کو کہا کہ قومی مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے مطابق عراق کی آبادی 45.4 ملین تک پہنچ گئی ہے۔
مردم شماری جو 20 نومبر کو کی گئی تھی، تین عشروں سے زائد عرصے میں عراق کا اولین ملک گیر جائزہ تھا۔ یہ مستقبل کی منصوبہ بندی اور ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
مردم شماری سے قبل منصوبہ بندی کی وزارت نے آبادی کا تخمینہ 43 ملین لگایا تھا۔
آخری مردم شماری جو 1997 میں ہوئی تھی، میں عراقی کردستان کا علاقہ شامل نہیں تھا۔ یہ 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد سے کرد انتظامیہ کے ماتحت ہے۔
اس مردم شماری میں 19 ملین عراقیوں کا شمار کیا گیا اور حکام کا تخمینہ ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کردش شمال میں مزید 3 ملین افراد موجود ہیں۔