اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے یہودی آباد کاروں کے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں اسرائیلی فوج کی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ اور دیگر افسروں کے خلاف یہودی آباد کاروں کی پر تشدد کارروائی کی مذمت کی گئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے میجر جنرل لیول کے اعلی افسر و دیگر پر یہودی آباد کاروں کا حملہ اسی روز ہوا جس روز ایک اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی اباد کاروں کو انتظامی حراست کے اسرائیلی قانون سے استثنا دینے کا اعلان کیا۔
اتوار کے روز اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے اسرائیلی آبادکاروں نے فوجی افسروں پر حملہ کر دیا۔ اسرائیلی آباد کاروں کے اس حملے کی زد میں آنے والوں میں میجر جنرل ایوی بلتھ بھی شامل تھے۔ واضح رہے میجر جنرل مقبوضہ مغربی کنارے میں تعینات اسرائیلی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ہیں۔
فوج کے جاری کردہ بیان میں مزید کہا گیا ہے مقبوضہ مغربی کنارے میں کمانڈر اسرائیلی فوج نے کہا کہ آباد کاروں کے ایک گروپ نے جمعہ کے روز مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں میجر جنرل بلوتھ اور دیگر افسران کا پیچھا کیا، اور ان فوجی افسروں کا محاصرہ کر کے انہیں علاقے سے نکلنے سے زبر دستی روک دیا۔
خیال رہے اسی مغربی کنارے میں اگر کوئی فلسطینی کہیں اسرائیلی فوجیوں کو گھور کر بھی دیکھ لے تو کچھ دیر بعد فوجی بیان میں کہہ دیا جاتا فوج نے ایک دہشت گرد کو 'نیوٹرل' کر دیا، یعنی ہلاک کر دیا۔
مگر اس معاملے میں فوجی بیان میں بتایا گیا ہے کہ ' ان یہودی آباد کاروں نے فوجی افسروں کے ساتھ بد سلوکی کی اور انہیں گالیاں دیں۔ ان میں سے پانچ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ۔' البتہ یہودی آبادکار وں کو یہ سب کچھ کرنے کی کافی دیر تک اجازت دیے رکھی گئی۔
دو دن بعد اتوار کے روز اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق 'اسرائیلی فوج' افسران کے خلاف کی جانے والی اس کارروائی کے بعد قانون کی مکمل حد تک نمٹا جانا چاہئے۔'
واضح رہے میجر جنرل الخلیل میں ہونے والی سالانہ مذہبی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے۔ مگر یہودی آباد کاروں کے جتھے ان پر چڑھ دوڑے اور ان کے خلاف غداری کے نعرے بھی لگاتے رہے۔
اسرائیلی پولیس نے بتایا ہے کہ فوج کے اعلی افسروں پر یہ( 'یہ بے عزتی اور محاصرے کا حملہ' ) ہفتے کے روز درجنوں آباد کاروں نے کیا۔ ان یہودی اباد کاروں میں سے کچھ نقاب پوش تھے۔ انہوں نے فوج کے اعلی افسروں پر پتھراؤ بھی کیا۔