سموٹریچ نے بن گویر کی حمایت کردی،ہم لبنان میں جنگ بندی کے خلاف ووٹ دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں جنگ بندی کی امیدوں اور اسرائیلی وزراء کے جنگ بندی مخالفت بیانات کی طرف سے مایوسی کے دوران اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بزلئیل سموٹرچ نے لبنان میں جنگ بندی کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔

بین گویر نے آج منگل کواپنے بیانات میں کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے خلاف ووٹ دیں گے۔

انتہا پسند وزیر نے کہا کہ "حکومت شمالی اسرائیل کے باشندوں کو ان کے گھروں کو واپس کرنے جنگ کا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہی"۔

"معاہدے کی حیثیت کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں"

دوسری طرف بزلئیل سموٹریچ نے اپنی پارٹی کے ایک اجلاس کے دوران جنگ کو روکنے کے لیے لبنان کے ساتھ کسی بھی معاہدے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ "ایسا کوئی معاہدہ نہیں ہوسکتا۔ اگر اس پر دستخط ہو گئے تو اس کی قیمت ایک کاغذ کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں ہوگی"۔

اس نے غزہ کی پٹی پر دوبارہ قبضہ کرنے اور وہاں فلسطینیوں کی تعداد کو دو سال کے اندر نصف تک کم کرنے کے مطالبے کی تجدید کی۔

یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لبنان کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی منظوری کے لیے اسرائیل کی سیاسی اور سلامتی کی وزارتی کونسل کا اجلاس آج شام ہونے والا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے نقطہ نظر کی تصدیق کے بعد اسرائیلی وزراء کے بیانات جنگ بندی کے حوالے سے نقصان دہ ہوسکتے ہیں۔ جان کربی نے جنگ بندی کے حوالے سے بات کی مگر وہ محتاط نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جب تک سب کچھ طے نہیں ہو جاتا کسی چیز کا اعلان نہیں کیا جائے گا‘‘۔

گذشتہ ستمبر سے اسرائیل نے لبنان اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر خاص طور پر جنوب، البقاع اور جنوبی مضافات میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں