عراق: یونیورسٹی پروفیسر نے اپنی ساتھی ملازمہ کو گولیاں مار کر قتل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر کی جانب سے اپنے ساتھی کو گولیاں مار کر قتل کرنے کی ویڈیو نے پورے ملک میں خوف اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران عراقی سوشل میڈیا پر سارہ العبودی کا نام وائرل ہے جو بصرہ یونیورسٹی کی کالج آف ایجوکیشن میں ملازمہ ہیں۔

مانیٹرنگ کیمروں میں ریکارڈ ہونے والے مناظر میں دیکھا گیا ہے کہ سارہ کے ساتھی ضرغام التمیمی نے ابو الخصب کے دور دراز علاقے میں پستول سے کئی گولیاں مار کر ہلاک کیا۔

ملزم سب سے پہلے سارہ العبودی سے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔وہ اپنی کار کے قریب کھڑی تھیں۔ دونوں کے درمیان کسی بات پر گرما گرم بحث ہوئی۔ اس دوران ضرغام اپنا پستول اس کی طرف بڑھایا۔

’خوفناک منظر‘

خوفناک مناظر پر مشتمل ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر وائرل ہوگیا۔ بصرہ کے گورنر اسعد العیدانی نے بدھ کو اعلان کیا کہ "ان کے بچوں کے چچا نے یہ جرم کیا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ "قانون اور انصاف سب سے بڑھ کر ہے اور کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں‘‘۔

کیمروں میں یونیورسٹی میں ایک ساتھی کے ہاتھوں ڈاکٹر سارہ عمار العبودی کے قتل کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ سکیورٹی فورسز نے اس کیس پر کارروائی شروع کردی ہے۔ جرم کے وقوع پذیر ہونے کے 12 گھنٹے سے بھی کم وقت میں مجرم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ بیانات ابو الخصب کے ایک علاقے میں ایک قتل شدہ خاتون کی لاش ملنے کے بعد سامنے آئے ہیں، جو بصرہ یونیورسٹی کے کالج آف فزیکل ایجوکیشن میں ملازم تھی۔

قابل ذکر ہے کہ عراق میں حالیہ عرصے کے دوران اسی طرح کے قتل کے واقعات دہرائے گئے ہیں۔ عراق کرائم انڈیکس میں 148 ممالک میں سے 80 ویں اور عرب دنیا میں رواں سال آٹھویں نمبر پر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں