اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ اس نے دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی کے چوتھے دن دھمکی آمیز سرگرمیوں کی نگرانی کرتے ہوئے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف سلسلہ وار حملے کیے ہیں۔ ایک بیان میں اسرائیلی فوج نے چار الگ الگ واقعات کے بارے میں بتایا۔ بیان کے مطابق جنگی ذرائع کی نقل و حمل کی جارہی تھی، ایک مقام پر میزائل پلیٹ فارم سے متعلق کام ہو رہا تھا۔ میزائل کی تیاری کے بنیادی ڈھانچے کے اندر کام کیا جارہا تھا۔ ان مقامات پر حملے کیے گئے۔ کچھ حملے ایئر فورس کی طرف سے کئے گئے.
قبل ازیں اسرائیلی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے شام اور لبنان کی سرحد کے قریب واقع ایسے فوجی انفراسٹرکچر مراکز پر حملہ کیا ہے جنہیں حزب اللہ ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لیے استعمال کرتی تھی۔ فوج نے ایک بیان میں کہا یہ حملہ شام سے لبنان تک حزب اللہ کے ہتھیاروں کی سمگلنگ کی کارروائیوں کا پتہ لگانے کے بعد کیا گیا۔ یہ کارروائیاں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل کی ریاست کے لیے خطرہ تھیں۔
مزید برآں اسرائیلی ٹینکوں نے جنگ بندی کی مدت کے دوران لبنان کے جنوب میں واقع قصبے عیترون کے علاقوں میں گھس کر ان علاقوں تک رسائی حاصل کرلی جہاں وہ جنگ کے دوران پہنچنے سے قاصر تھے۔ ایک اور تناظر میں لبنان کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے جنوب میں مجدل زوون میں ایک کار کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملے میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں ایک سات سالہ بچہ بھی شامل ہے۔
قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک ڈرون نے صور ضلع کے قصبے مجدل زون کے قریب ایک کار کو نشانہ بنایا تھا۔ دشمن نے خیموں پر توپ خانے سے گولہ فائر کیا اور بھاری مشین گنوں کی آواز سنی گئی۔ شہریوں نے بتایا کہ یہ حملہ ضلع کے قصبہ شکرا کے مضافات میں صبح کے وقت کیا گیا۔ اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ لبنانی باشندوں کو جنوب کے کئی دیہاتوں میں جانے سے منع کیا گیا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ علاقے کے تقریباً 62 دیہاتوں میں واپس نہ جائیں۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اسرائیل کے یہ حملے اور اشتعال انگیز اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اسرائیل اور حزب اللہ تنازع کو ختم کرنے کے لیے امریکہ اور فرانس کی ثالثی میں کیے گئے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ معاہدے کے تحت جنگ بندی 60 دن تک جاری رہے گی۔ اس کے بعد امید ہے کہ دشمنی کے مستقل خاتمہ کردیا جائے گا۔
اس دوران جب لبنان نے جنگ بندی کے بعد مسلسل تیسرے دن اسرائیلی خلاف ورزیوں میں اضافے کی شکایت کی ہےچار اسرائیلی ٹینک اور دو بلڈوزر جنوبی قصبے الخیام کے مغربی محلوں میں سے ایک میں گھس گئے۔ اسرائیلی توپ خانے نے بمباری کی اور مرکبہ اور طلوسہ کے قصبوں کے مضافات کو نشانہ بنایا ہے۔
جنگ بندی کی قرارداد پر عمل درآمد کی نگرانی کرنے والی پانچ رکنی کمیٹی (جس میں امریکہ، فرانس، لبنان، اسرائیل اور اقوام متحدہ شامل ہیں) یونیفیل کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ اپنے پہلے اجلاس میں آج اتوار کو معاہدے کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لے گی۔
جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے دو دن بعدحزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے لبنانی فوج کے ساتھ ہم آہنگی اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے اس کے ساتھ کام کرنے کا عہد کیا تھا۔ نعیم قاسم نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ یہ جنگ حزب اللہ نے جیت لی ہے۔