فلسطینی وزیر ثقافت عماد حمدان نے ’فلسطینی نابلسی صابن‘ کو اقوام متحدہ کی تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی تنظیم ’یونیسکو‘ میں انسانیت کے غیرمنافع بخش ثقافتی ورثے کی نمائندہ فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
’نابلسی صابن‘ صابن ہی کی ایک قسم ہے جس کی تیاری کے لیے فلسطین کا شہر نابلس زمانہ قدیم سے مشہور ہے۔ اس کا بنیادی جزو زیتون کا تیل ہے۔ چونکہ زیتون خطے کی اہم زرعی پیداوار ہے۔اس لیے اس کا استعمال صابن میں بھی کیا جاتا ہے۔ اگرچہ حلبی اور طرابلسی صابن بھی اس سے ملتے جلتے ہیں مگر اپنی سفید رنگت کی بہ دولت نابلسی صابن زیادہ ممتازمقام رکھتا ہے۔
پچھلی صدی کے وسط میں نابلس میں صابن کی 52 دکانیں تھیں، جبکہ آج صرف چار باقی رہ گئی ہیں۔ صابن کی دکانیں تجارتی سامان کے گوداموں یا عجائب گھروں اور ثقافتی مراکز میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
حمدان نے ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی تنظیم کی غیر سرکاری ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے بین الحکومتی کمیٹی کے انیسویں اجلاس کے دوران لیا گیا یہ فیصلہ ریاست فلسطین کی جانب سے بہت سے سرکاری اور سول اداروں کے تعاون سے کی گئی انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے"۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ پہچان ہمارے ورثے کے تحفظ کے لیے مضبوط حمایت کی تشکیل کرتی ہے۔ عالمی بیداری میں اضافہ کرتی ہے اور ہمارے چیلنج اور ہماری زمین اور تاریخ سے گہرے تعلق کی علامت ہے"۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "عالمی صنعتی مسابقت، اقتصادی چیلنجز اور تجارتی پابندیوں نے اس روایتی صنعت کو درپیش مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ان رکاوٹوں کے باوجود فلسطین نابلسی صابن کی صنعت کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہے"۔
یونیسکو کی بین الحکومتی کمیٹی کے اجلاس دو سے سات دسمبر تک پیراگوئے میں منعقد ہو رہے ہیں۔