قیدیوں کے معاملے کو انسانی مسئلے کے طور پر ڈیل کرتے ہیں: ترجمان اتحادی افواج
یمن میں آئینی حکومت کی حمایت میں سرگرم اتحاد نے حوثی رہ نما کے بھائی کی لاش حوالے کرنے کے حوالے سے بیاہ کردہ دعوے کو بے بنیاد قرار دیا
اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی نے حوثی رہ نما کے بھائی کی لاش حوالے کرنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ انہوں نے ایک پریس بیان میں زور دیا ہے کہ اتحاد قیدیوں اور زیر حراست افراد کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر ڈیل کرتا ہے۔ جنگجوؤں کی لاشوں کی بازیابی ایک خالصتاً انسانی مسئلہ ہے جس پر تمام فریقوں کو رواداری کے اسلامی قوانین، انسانی اصولوں اور ثقافتی اور سماجی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔ حوثی رہ نما کے بیان میں اس کے بھائی کی لاش حوالے کرنے کے حوالے سے جو کچھ کہا گیا ہے وہ گمراہ کن اور بے بنیاد ہے۔
بریگیڈیئر جنرل المالکی نے زور دیا کہ میتیں نکالنے اور پہنچانے کا عمل جون 2023 میں شروع ہوا تھا جس کے ذریعے سعودی افواج کے 9 شہداء اور یمنی فوج کے 20 شہداء کی میتیں برآمد کی گئیں۔ ساتھ ہی ان کی واپسی اور ترسیل کا عمل شروع کیا گیا۔ سرحد پر مارے جانے والے 57 حوثی جنگجوؤں کی لاشیں ملی ہیں جن کی واپسی کے لیے کوشش کی گئی۔
اتحادی افواج کے سرکاری ترجمان نے کہا کہ اس طرح کے بیانات گمراہ کن ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حوثیوں سے متعلق اندرونی وجوہات کی بناء پر ان کا اعلان کیا گیا ہو۔ بیان میں مذکورہ نام لاشوں کی بازیابی کے لیے مذاکرات کے دوران پیش کیے گئے ناموں میں شامل نہیں تھا۔ یہ امکان نہیں ہے کہ یہ نام علاقائی تنازعات میں مارے جانے والوں میں شامل ہو۔