سعودی وزیرِ ثقافت اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کی سوسائٹی کے چیئرمین شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے آلۂ موسیقی سمسمیہ کو یونیسکو کی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کرنے کے حوالے سے کامیابی کا اعلان کیا ہے۔
بدھ کے روز غیر سرکاری ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے بین الحکومتی کمیٹی کے 19واں اجلاس ہوا جس میں سعودی عرب نے سمسمیہ کو یونیسکو کی فہرست میں شامل کرنے کی مصری درخواست کی حمایت کی۔
سعودی پریس ایجنسی نے اطلاع دی کہ سمسمیہ ساحلی قصبات میں سعودی ثقافت کا حصہ ہے اور اسے شادیوں اور تہواروں میں روایتی موسیقی بجانے کے لیے اور ان نغمات میں استعمال کیا جاتا ہے جو ملاحوں اور سمندر کے قریبی علاقوں کی سماجی زندگی کی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔
سمسیمیہ جو لکڑی کے ڈبے یا پیالہ نما بربط سے تار جوڑ کر بنایا جاتا ہے، مصر میں بھی مشہور ہے۔
یہ تازہ ترین سعودی ثقافتی عنصر ہے جسے یونیسکو کی غیر مادی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ دیگر عناصر میں سعودی خولانی کافی کی پھلیاں، دھاتوں پر کندہ کاری کا فن، ہریسہ کھانا، عربی خطاطی اور کھجور کا درخت شامل تھے۔
ایس پی اے نے اطلاع دی کہ سمسمیہ سعودی عرب میں نسل در نسل منتقل ہوا اور مملکت کی اجتماعی یادداشت کا حصہ بن گیا ہے۔ اور یہ اب بھی ثقافتی اور سماجی تقریبات میں بجایا جاتا ہے۔