باغیوں کا حلب پر قبضہ: شامی خاندان برسوں بعد دوبارہ متحد ہونے لگے
جنگ اور قبضہ خاندانوں کی جدائی کے ساتھ ساتھ دوبارہ ملنے کی بھی وجہ
شام کے دوسرے شہر حلب پر باغیوں کا قبضہ بعض لوگوں کے لیے فرار اور نقل مکانی لے کر آیا ہے لیکن بحریہ بکر جیسے افراد کے لیے یہ طویل انتظار کے بعد خاندان سے دوبارہ مل جانے کی وجہ بنا ہے۔
تقریباً ایک عشرے کے وقفے کے بعد 43 سالہ بکر آخرِ کار اپنے بیٹے کو گلے لگانے میں کامیاب ہوئیں جو اس وقت جدا ہو گئی تھیں جب حکومتی افواج نے ان کے شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
حلب پر اسلام پسندوں کی قیادت میں باغیوں کے اچانک حملے نے وہ جنگ دوبارہ شروع کر دی ہے جو برسوں سے زیادہ تر غیر فعال تھی۔
گذشتہ ہفتے سے شمالی شام میں جاری لڑائی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور شہریوں کے لیے خدشات بڑھ گئے ہیں لیکن بکر کے لیے اس کا مطلب اپنے بیٹے سے دوبارہ مل جانا ہے۔
بکر نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ کہا، "مجھے امید نہیں تھی کہ ایسا ہو گا۔ سوچتی تھی کہ میں بیٹے سے ملنے سے پہلے ہی مر جاؤں گی۔"
جب شامی صدر بشار الاسد کی افواج نے 2016 میں وحشیانہ محاصرے کے بعد حلب کے مشرقی اضلاع پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا تب انہوں نے آخری بار اپنے بیٹے محمد جمعہ کو دیکھا تھا جو اب 25 سال کا ہو چکا ہے اور چار بچوں کا باپ ہے۔
جمعہ ان دسیوں ہزار افراد میں سے ایک تھا جو جنگ کے شروع میں شہر سے بھاگ گئے تھے اور ابھی حالیہ دنوں میں واپس آئے ہیں۔
انہوں نے کہا، "یہ ایک ناقابلِ بیان خوشی ہے۔ مجھے اب بھی یقین نہیں آرہا کہ میں حلب میں واپس آ گیا ہوں۔"
حلب چھوڑنے کے بعد سے جمعہ نے اپنے خاندانی گھر سے تقریباً 40 کلومیٹر (25 میل) دور باغیوں کے زیرِ قبضہ عفرین میں کئی سال گذارے۔
"ہم جانتے تھے کہ ہم حلب میں نہیں رہ سکتے کیونکہ ہم پر 'دہشت گرد' کا لیبل لگا دیا گیا تھا۔ ہم پھنس گئے تھے اور ہمیں حلب چھوڑنا پڑا۔" فوجی لباس اور ایک روایتی سرخ اور سفید کوفیہ رومال میں ملبوس جمعہ نے کہا۔
ان کی والدہ نے کہا کہ جب تک میں نے اسے دیکھا نہیں، میں انتظار میں منٹ اور گھنٹے گنا کرتی تھی۔ الحمد للہ، میں نے اسے دیکھ لیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پوری دنیا مجھ پر مسکرا رہی ہے۔"
شہر کے بعض حصوں میں سڑکیں سنسان اور رہائشی پریشان ہیں اور اندیشہ ہے کہ حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ نے بدھ کے روز کہا کہ لڑائی سے 115,000 نئے افراد "ادلب اور شمالی حلب میں بے گھر ہوئے"۔
اقوامِ متحدہ کے ایلچی گیئر پیڈرسن نے شہریوں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا، "تازہ ترین پیشرفت سے شامی عوام میں مختلف ردِ عمل پیدا ہوا ہے - کچھ لوگوں کے لیے ایک سنگین خطرہ اور دوسروں کے لیے امید کا اشارہ ہے۔"
جمعہ کے لیے اپنے خاندان سے دوبارہ ملنے کی خوشی نامکمل تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی افواج نے 2016 میں حلب پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ان کے والد کو حراست میں لے لیا تھا اور اس کے بعد سے "ہمیں ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ میری صرف یہ خواہش ہے کہ والد واپس آجائیں۔"
گھر کے باہر رشتہ دار اور ہمسائے جمعہ کی واپسی پر ان کا استقبال کرنے آئے اگرچہ ان کی گفتگو کا رخ تیزی سے میدان جنگ کی تازہ ترین خبروں کی طرف مڑ گیا۔
35 سالہ احمد عرابی بھی اپنی کمسن بیٹی کے پاس حلب میں واپس اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔
سات سال پہلے وہ فرار ہو کر ادلب صوبے میں چلے گئے تھے جہاں کئی لوگ شام کے دیگر مقامات سے بے گھر ہو کر آئے ہوئے تھے۔
لیکن بڑھتے ہوئے ہوائی حملوں نے عرابی کی اہلیہ کو ایک بار پھر بیٹی کے ساتھ حلب میں اپنے خاندان کے پاس واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
حزبِ اختلاف کے میڈیا کے ایک کارکن عرابی اپنے خاندان اور آبائی شہر سے اتنا زیادہ دور نہیں رہنا چاہتے تھے لیکن جب تک حلب اسد کے کنٹرول میں تھا، وہ واپس نہیں آ سکے۔
انہوں نے کہا، "واپس آنا گویا ایک خواب تھا۔ جب لڑائیاں شروع ہوئیں تو میں نے انتظار نہیں کیا۔ میں اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتا تھا۔ میں نے اس کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا۔"
عرابی نے کہا کہ اگرچہ "سڑک مکمل طور پر تریفک کے لیے کھلی نہیں تھی" لیکن وہ اس علاقے میں پہنچ گئے جہاں ان کی بیٹی رہتی تھی۔
انہوں نے کہا، "میں نے اس کا نام پکارا" اور "جب میں نے اسے دیکھا تو یہ ایک خوبصورت لمحہ تھا۔"
وہ جدائی کی نذر ہو جانے والے سالوں پر افسوس کرتے ہیں لیکن اب کھوئے ہوئے وقت کی کمی پوری کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
"میں نہیں جانتا تھا کہ باپ ہونا کیسا احساس تھا - میں اسے اپنی بانہوں میں لے کر گلے سے نہیں لگا سکتا تھا، اسے چوم نہیں سکتا تھا۔"
حلب میں خاندان کی دوبارہ واپسی کے بعد عرابی اپنی بیٹی کو ایک عوامی پارک میں لے گئے جہاں وہ ایک ساتھ کھیل سکتے ہیں اور یادیں بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا، "ایک باپ کی حیثیت سے یہ سب سے زیادہ خوشی کے لمحات ہیں۔"
-
حزب اللہ ارکان لبنان اور شام کی سرحد پر پھیل چکے ہیں: ذرائع کا انکشاف
جب سے ھیئہ تحریر الشام اور اس کے اتحادی مسلح دھڑوں نے شام کے دوسرے بڑے شہر حلب کا ...
بين الاقوامى -
شام کا چوتھا بڑا شہر ’حماۃ‘ تین اطراف سے اپوزیشن جنگجوؤں کے گھیرے میں آگیا
شہر کے اندر گھمسان کی جنگ، ’تحریر شام محاذ‘ نے حماۃ کی سینٹرل جیل کا کنٹرول سنھبال ...
مشرق وسطی -
کیا شام خانہ جنگی کے دور میں دوبارہ واپس آنے والا ہے؟
’ھیۃ تحریر الشام‘ اور اس کے اتحادی مسلح دھڑے شام کے چوتھے بڑے شہر حماۃ کو تین ...
مشرق وسطی