ایرانی سینیئر حکام نے عندیہ دیا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کی مدد کے لیے میزائل اور ڈرون طیارے بھیجنے کے علاوہ ایران شام میں اپنے فوجی ایڈوائزرز کی تعداد میں بھی اضافہ کرے گا۔
ایرانی حکام نے جمعہ کے روز بین الاقوامی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے ساتھ گفتگو میں کہا 'ایران شام کی حکومت کے مقابل اپوزیشن کی جاری لڑائی میں حکومت کی حمایت کرتا ہے۔'
انہوں نے کہا کہ 'اس امر کا امکان ہے کہ ایران فوجی آلات جن میں میزائل اور ڈرون شامل ہیں شام بھیجے گا۔ '
ایران نے اس سلسلے میں بھی اقدامات کیے ہیں کہ وہ شام کے لیے اپنے فوجی مشیروں کی تعداد میں اضافہ کرے۔ تاکہ شام کے مختلف علاقوں میں ان کی تعیناتی ہو سکے۔
ایران کے ان ذمہ داروں نے 'روئٹرز' کے ساتھ گفتگو اس شرط پر کی کہ 'روئٹرز' ان کا نام ظاہر نہیں کرے گی۔
حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران اس وقت بھی شام کو اینٹیلیجنس کے شعبے میں مدد دے رہا ہے اور ایرانی سیٹلائٹ بھی شام کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
واضح رہے شام کے صدر بشار الاسد ایران کے لیے اہم اتحادی ہیں اور وہ ایران کے اس مزاحمتی محور کا بھی حصہ ہیں جو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور امریکہ کے لیے مزاحمت کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
پچھلے ہفتے میں شامی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی فوج نے میدان جنگ میں بشار کے خلاف کافی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور 13 برس قبل جو خانہ جنگی شروع ہوئی تھی ، وہ ایک بار پھر بشار الاسد کے لیے چیلنج بن گئی ہے۔
تہران اور ماسکو دونوں شام کو فوجی اور معاشی مدد دیتے ہیں۔ لیکن حزب اللہ کو حالیہ مہینوں میں اسرائیل سے ہونے والے نقصان کے بعد ایران کو کافی بڑا دھچکہ لگا ہے۔ پچھلے دو ماہ میں حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف لڑائی میں بھاری نقصان اٹھایا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے 'روئٹرز' کو بتایا کہ ایران اور شام بڑے شہروں کی طرف بغاوت اور پیش قدمی کو روکنے کے لیے متحد ہیں۔ تاہم شام نے ابھی تک اپوزیشن فورس کے خلاف ایران کی زمینی فوج کی مدد نہیں مانگی ہے۔
ان حکام کا کہنا تھا اس لیے یہ روس اور شام کا فیصلہ ہوگا کہ فضائی حملوں کو شدت دی جائے۔ جبکہ ایران نے بھی وہ تمام ضروری اقدامات کیے ہیں جو شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت کو فوجی مدد دینے کے لیے ہیں۔