شام کے شہر حمات کے مسلح دھڑوں کے ہاتھ جانے کا مطلب کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

’’ ھیئہ تحریر الشام‘‘ اور اس کے اتحادی مسلح دھڑوں نے شام کے چوتھے بڑے شہر حمات کو تین اطراف سے گھیرنے میں کامیاب ہونے کے بعد اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کردیا۔ ’’العربیہ‘‘ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ شامی مسلح دھڑے حمات کے دوسرے بڑے علاقے السلمیہ میں داخل ہونے لگے ہیں۔

شامی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ حمات کے سٹریٹجک شہر کے نقصان کو تسلیم کیا گیا ہے۔ شامی فوج نے اعلان کیا کہ شہر میں تعینات اس کے فوجی یونٹوں کو دوبارہ تعینات کیا گیا اور شہر سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ سیریئن آبزرویٹری نے اطلاع دی ہے کہ 200 سے زیادہ فوجی گاڑیاں جنوبی حمات کے دیہی علاقوں سے حمص کی طرف واپس چلی گئیں۔

حمات شہر اور اس کے دیہی علاقے فوجی اور جغرافیائی دونوں سطحوں پر اہم مقامات ہیں۔ یہ ایک سٹریٹجک شہر ہے جو شام کی گہرائی میں واقع ہے اور حلب کو دمشق سے ملاتا ہے۔ یہ شہر دمشق سے 213 کلومیٹر شمال میں اور حمص سے 46 کلومیٹر شمال میں اور حلب شہر سے تقریباً 135 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔ یہ 2011 میں شروع ہونے والی جنگ کے دوران شامی حکومت کے کنٹرول میں رہا۔

حمص کا راستہ

یہ شہر حلب سے دمشق کے راستے کے ایک تہائی سے زیادہ راستے پر واقع ہے اور اس پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد مسلح دھڑوں کے لیے حمص کی طرف پیش قدمی کا راستہ کھل جائے گا۔ حمص ملک کے وسط میں واقع ایک بڑا شہر ہے جو زیادہ تر گنجان علاقوں کو جوڑنے والا سنگم ہے۔ حمص پر کنٹرول حاصل ہونے کی صورت میں دارالحکومت دمشق اور شام کے ساحل کے درمیان نقل و حمل اور سپلائی لائن منقطع ہو جائے گی۔ اس شہر کی آبادی میں سنی مسلمانوں کی اکثریت ہے جس کی آبادی تقریباً 10 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ تاہم اس میں علوی فرقے کی ایک اقلیت بھی شامل ہے۔ اسی فرقے کا الاسد خاندان پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے شام پر حکومت کر رہا ہے۔

رابطے کا مقام

حمات کا اہم جغرافیائی محل وقوع اسے شمال اور جنوب، مشرق اور مغرب کے درمیان ایک مربوط مقام بناتا ہے۔ اس کی مرکزی شاہراہیں دمشق، حلب، حمص اور لطاکیہ جیسے اہم شہروں کو جوڑتی ہیں۔ حمات خاص طور پر دریائے اورونٹیس کے کنارے اپنے پانی کے پہیوں کے لیے مشہور ہے جو شہر کی مرکزی توجہ کا مرکز ہے۔ یہ پانی کے پہیے قرون وسطیٰ میں بنائے گئے تھے اور وہ شہر کے باغات، حماموں، مساجد اور کنوؤں تک پانی پہنچاتے تھے۔ ایجنسی فرانس پریس کے مطابق یونیسکو نے حمات کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

دمشق کی حفاظت

واضح رہے مسلح دھڑے فوج کے لیے سٹریٹجک اہمیت سمجھے جانے والے اس شہر حمات میں داخل ہوگئے ہیں۔ اس شہر کا تحفظ دارالحکومت دمشق کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے۔ دمشق اس کے جنوب میں تقریباً 220 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شام میں 2020 کے بعد اس پیمانے کی پہلی لڑائی میں اب تک 826افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق 27نومبر کے بعد سے 2 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں