اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ اس کے فوجی گولان کی پہاڑیوں کے شام کے زیرِ قبضہ حصے میں "مسلح افراد" کا حملہ پسپا کرنے میں اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کی مدد کر رہے ہیں۔
گولان کی پہاڑیوں پر اقوامِ متحدہ کے گشت والے بفر زون کے کنارے واقع ایک قصبے کا حوالہ دیتے ہوئے فوج نے ایک بیان میں کہا، "تھوڑی دیر پہلے شام کے علاقے حضر میں اقوامِ متحدہ کی ایک چوکی پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔ اسرائیلی فوج اس وقت حملہ پسپا کرنے میں اقوامِ متحدہ کی افواج کی مدد کر رہی ہے۔"
اقوامِ متحدہ کی فوج نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
برطانیہ میں قائم جنگی نگراں ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ ہفتے کے روز شامی باغیوں نے حضر سے 12 کلومیٹر (آٹھ میل) جنوب میں صوبائی دارالحکومت القُنیطرہ کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
طویل عرصے سے تعطل کا شکار شام کی خانہ جنگی گذشتہ ماہ کے آخر میں دوبارہ شروع ہو گئی جس میں باغیوں نے ملک کے طول و عرض میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں کیں اور متعدد بڑے شہروں پر قبضہ کر لیا۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ آرمی چیف ہرزی حالوی نے ہفتے کے روز شام کی سرحد کا دورہ کیا اور کہا، ان کا ملک "شام میں ہونے والے واقعات میں مداخلت نہیں" بلکہ "علاقے میں خطرات کو ناکام بنانے اور روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔"
اس سوال پر کہ کیا حملہ جاری تھا، فوج نے ہفتے کی شام تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ شام کی صورتِ حال کے جواب میں گولان کے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں میں "فضائی اور زمینی افواج کو تقویت دے رہی تھی"۔ اور ہفتے کے روز اس نے کہا کہ اس نے فوجیوں کی تیاری کو یقینی بنانے کے لیے مشقیں کی تھیں۔
اقوامِ متحدہ کی امن فوج یو این ڈی او ایف 1974 سے اسرائیل اور شام کے زیرِ قبضہ علاقوں کے درمیان بفر زون میں گشت کر رہی ہے۔
اگست 2014 میں انتہا پسندوں نے حملہ کر کے 40 سے زیادہ فیجی امن فوجیوں کو یرغمال بنا لیا اور انہیں تقریباً دو ہفتوں تک قید رکھا تھا۔