منگل کے روز اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس بات کی تردید کی کہ ان کی افواج اسرائیل کے زیرِ قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے ساتھ بفر زون سے آگے شامی علاقے میں داخل ہو گئی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا، "یہ سچ نہیں ہے، افواج نے بفر زون نہیں چھوڑا۔"
اس سے قبل منگل کو شام کے سکیورٹی ذرائع نے کہا تھا کہ شام میں اسرائیلی فوج کی دراندازی دمشق کے جنوب مغرب میں تقریباً 25 کلومیٹر (16 میل) تک پہنچ گئی جب اسرائیل نے جنوبی شام میں ایک بفر زون پر قبضہ کر لیا اور رات بھر شامی فوج اور اس کے فضائی مراکز پر فضائی حملے کیے تھے۔
شام میں اسرائیل کی فوجی کارروائی باغیوں کے قبضے کے دو دن بعد ہوئی ہے جس سے شامی، علاقائی ممالک اور عالمی طاقتیں پریشان ہو گئی ہیں کہ آگے کیا ہو گا۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ شام کے تنازعہ میں شامل نہیں ہو گا اور اس کا بفر زون پر قبضہ ایک دفاعی اقدام تھا۔
مصر، قطر اور سعودی عرب نے دراندازی کی مذمت کی ہے۔ سعودی عرب نے کہا کہ یہ اقدام "شام میں سلامتی کی بحالی کے امکانات کو تباہ کر دے گا۔"
علاقائی سکیورٹی ذرائع اور ختم ہو جانے والی شامی فوج کے افسران نے بتایا کہ شام کے طول و عرض میں فوجی تنصیبات اور فضائی مراکز پر رات بھر اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے جن میں درجنوں ہیلی کاپٹر اور جیٹ طیارے اور ان کے ساتھ ہی دمشق اور اس کے ارد گرد ریپبلکن گارڈ کے اثاثے بھی تباہ ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ 200 کی تعداد میں چھاپوں نے شامی فوج کے اثاثہ جات میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑا۔
اسرائیل نے کہا کہ اس کے فضائی حملے دنوں تک جاری رہیں گے لیکن اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ وہ شام کے تنازع میں مداخلت نہیں کر رہا بلکہ اس نے صرف اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے "محدود اور عارضی اقدامات" کیے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس پیر کو بند کمرے میں ہوا اور سفارت کاروں نے کہا کہ وہ بدستور اس بات پر پریشانی اور صدمے میں ہیں کہ 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد 12 دنوں میں الاسد کی معزولی کتنی تیزی سے واقع ہوئی جو برسوں سے تعطل کا شکار تھی۔
روس نے شامی حکومت کی حمایت اور حزبِ اختلاف کے خلاف جنگ میں معاونت میں اہم کردار ادا کیا۔ شامی رہنما اتوار کے روز دمشق سے ماسکو فرار ہو گئے جس سے ان کے خاندان کی 50 سال سے زائد وحشیانہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا۔
جیسا کہ دمشق میں بدستور جشن کا ماحول ہے تو الاسد کے وزیرِ اعظم محمد جلالی نے پیر کے روز حزبِ اختلاف کے زیرِ قیادت عبوری حکومت کو اقتدار سونپنے پر اتفاق کیا جو شمال مغربی شام میں حزبِ اختلاف کے زیرِ قبضہ علاقے میں مقیم ایک انتظامیہ ہے۔
اس معاملے سے واقف ایک ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ ابو محمد الجولانی کے نام سے مشہور حزبِ اختلاف کے اہم کمانڈر احمد الشارع نے عبوری حکومت پر گفتگو کے لیے جلالی اور نائب صدر فیصل مقداد سے ملاقات کی۔ جلالی نے کہا ہے کہ اقتدار کی منتقلی میں کچھ دن لگ سکتے ہیں۔