بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے اگلے دن شام میں کیا ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام کی سب سے بڑی جیل صیدنایا جیل کے زیرزمین سیلوں میں قیدیوں کے لیے پیر کے روز شام میں شدید تلاشی کا عمل جاری ہے ۔ غیر سرکاری تنظیموں نے بتایا ہے کہ قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا ۔ دمشق میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے پر جشن کا سلسلہ جاری رہا۔

شام میں حکومت کے زوال کے اگلے ہی دن نئی حکومت کے حوالے سے خدوخال ظاہر کرنا شروع ہوگئے۔ العربیہ اور الحدیث کے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ’’ملٹری آپریشن ڈیپارٹمنٹ‘‘ کے کمانڈر احمد الشرع نے ایک رہنما محمد البشیر سے ملاقات کی۔ محمد البشیر ادلب میں سالویشن گورنمنٹ میں ایک عہدے پر فائز رہے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ احمد الشرع محمد البشیر کو نئی حکومت کی تشکیل کی ذمہ داری سونپ رہے ہیں۔

ہمارے ذرائع نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ احمد الشرع اور محمد البشیر نے وزیر اعظم محمد الجلالی کی موجودگی میں شامی اداروں کے انتظام کو آسانی سے منتقل کرنے پر اتفاق کیا اور اقتدار کی منتقلی کے لیے ایک طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا۔ شام میں نصف صدی سے زائد عرصے تک اسد خاندان کی حکمرانی کے خاتمے کے ساتھ ایک تاریخی موڑ کے تناظر میں وائٹ ہیلمٹس تنظیم نے ہنگامی ٹیمیں دمشق سے 30 کلومیٹر دور واقع صیدنایا جیل میں بھیجیں۔ خفیہ کوٹھریوں کی تلاش کی جاتی رہی۔

تنظیم نے کہا کہ اس نے جو یونٹ بھیجے ہیں ان میں ایک تلاش اور بچاؤ ٹیم، دیوار کی کھدائی کرنے والی ٹیم، لوہے کے دروازے کھولنے والی ٹیم، ایک تربیت یافتہ کتوں کی ٹیم اور ایک ایمبولینس ٹیم شامل ہے۔ سوشل میڈیا پر شامیوں نے ان قیدیوں کی تصاویر گردش کیں جنہیں حزب اختلاف کی پیش قدمی کے دوران رہا کیا گیا تھا تاکہ ان کی شناخت ہو اوریہ اپنے خاندانوں کو دوبارہ مل سکیں۔

وسطی دمشق میں شامی باشندے امیہ سکوائر کی طرف آتے رہے۔ اتوار کے روز دارالحکومت کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد ھیئہ تحریر الشام کی قیادت میں حزب اختلاف کے گروپوں کی طرف سے نافذ رات کا کرفیو اٹھا لیا گیا۔

شمالی شام کے شہر حلب میں سالویشن گورنمنٹ کے تحت زندگی دوبارہ شروع ہوگئی۔ سالویشن گورنمنٹ ادلب میں 2017 سے قائم ہے۔ ہمسایہ ملک ترکیہ سے بھی بہت سے شامی گلفی گوزو سرحدی دروازے سے اپنے ملک واپس آئے۔ شام میں یہ حملہ 2011 میں صدر بشار الاسد کے خلاف مظاہروں کے شروع ہونے کے بعد سے اپنے دائرہ کار میں غیر معمولی ہے۔

دمشق میں پیر کے روز بہت کم تعداد میں دکانیں دوبارہ کھل گئیں ۔ سکولوں سمیت سرکاری ادارے بند تھے۔ شہر کے مرکز سے دھواں پیر کے روز بھی اٹھتا رہا۔ سکیورٹی فورسز موجود رہیں۔ ملک بھر میں مظاہرین نے بشار الاسد اور ان کے والد حافظ الاسد کے مجسموں کو گرا دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں