شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ "المرصد" کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے آج بدھ کے روز بتایا کہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا دیر الزور شہر سے کل مکمل انخلا ہو گیا۔
العربیہ نیوز کو دیے گئے بیان میں انھوں نے مزید بتایا کہ ایس ڈی ایف دریائے فرات کے مشرق میں واقع 7 دیہات کی طرف لوٹ گئی ہے۔ یہ علاقہ کونیکو گیس فیلڈ کے قریب ہے جس پر ایرانی ملیشیاؤں کا کنٹرول تھا۔
رامی کے مطابق اس وقت شام کی 20 فی صد اراضی پر ایس ڈی ایف کا کنٹرول رہ گیا ہے جب کہ 70 فی صد اراضی مسلح اپوزیشن گروپوں کے کنٹرول میں ہے۔
البتہ الساحل السوری میں بالخصوص الاذقیہ اور طرطوس کے صوبوں میں ابھی تک روسی فوجی اڈے اسی طرح قائم ہیں۔
گذشتہ ہفتے ایرانی ملیشیاؤں کے ہزاروں جنگجؤ دیر الزور اور دیگر علاقوں سے کوچ کر گئے جہاں وہ تعینات تھے۔ اس بات کی تصدیق با خبر ذرائع کی جانب سے کی گئی۔
اسی طرح شامی فوج نے ملک کے مختلف علاقوں میں عسکری ٹھکانوں کو "عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ" کے ساتھ شریک مقامی گروپوں کے حوالے کر دیا۔ اس انتظامیہ میں "تحریر الشام تنظیم" اور دیگر اتحادی مسلح گروپ شامل ہیں۔
یاد رہے کہ دار الحکومت دمشق بھی ہفتے کی شام سے مذکورہ انتظامیہ کے زیر کنٹرول آ گیا جس کے بعد اتوار 8 دسمبر کو علی الصبح سابق صدر بشار الاسد کی حکومت ختم ہو گئی۔
-
شام: منبج میں جنگ بندی، مسلح دھڑوں کا دیر الزور پر مکمل کنٹرول
شام میں حلب شہر کے شمال مشرق میں واقع منبج میں ترکیہ نواز مسلح شامی گروپوں کے ساتھ ...
مشرق وسطی -
شام میں ایک جامع حکومت تشکیل دی جائے، امریکا کا تحریر الشام پر زور
اگرچہ امریکا نے "تحریر الشام" کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے ...
مشرق وسطی -
شام کسی اور جنگ میں ہر گز مصروف نہیں ہو گا: احمد الشرع
تحریر الشام تنظیم کے قائد احمد الشرع نے جو 'ابو محمد الجولانی' کے نام سے جانے جاتے ...
مشرق وسطی