سعودی عرب اور برطانیہ نے اس مشکل مرحلے میں شام کو سپورٹ پیش کرنے کی اپیل کی ہے تا کہ طویل برسوں سے جاری شامی عوام کے مصائب کو کم کیا جا سکے جس کے دوران میں لاکھوں بے قصور افراد کی جانیں گئیں اور لاکھوں افراد پناہ گزین بننے پر مجبور ہو گئے۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹامر کے سعودی عرب کے دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں زور دیا گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ شامی عوام کو ایک روشن مستقبل حاصل ہو جو امن ، استحکام اور خوش حالی سے بھرپور ہو۔
بیان میں سعودی عرب اور برطانیہ نے شامی عوام کی سلامتی، خون روزی روکنے اور شامی ریاستی اداروں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے کسی بھی اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ دونوں ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ شامی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور اس کے ساتھ تعاون کریں۔
اس موقع پر دونوں ممالک نے علاقائی کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کی اہمیت کو باور کرایا۔ جانبین نے غزہ میں تنازع ختم کرنے اور یرغمالیوں کی فوری رہائی کی ضرورت پر زور دیا۔ اس سلسلے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں 2720 (2023ء)، 2728 (2024ء) اور 2735 (2024ء) پر عمل درآمد کیا جائے۔ دونوں ممالک نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ اسرائیل فلسطینی اور شہری بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کرے۔ فلسطینی عوام تک انسانی امداد کی وصولی آسان بنائے اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں بالخصوص اقوام متحدہ اور اس کی ذیلی تنظیم انروا کو کام کرنے کی اجازت دے۔
سعودی عرب اور برطانیہ کے بیچ دو ریاستی حل پر عمل درآمد کا معاملہ بھی زیر بحث آیا جس سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو اپنی سرحدوں کے اندر سکون کی زندگی میسر آ سکے۔ اس موقع پر برطانیہ نے جون 2025 میں منعقد ہونے والی کانفرنس کے لیے اپنی امنگ کا اظہار کیا۔ کانفرنس کی سربراہی سعودی عرب اور فرانس مشترکہ طور پر کریں گے۔
جانبین نے لبنان میں فائر بندی کے معاہدے کو برقرار رکھنے اور سلامتی کونسل کی قرار داد 1701 کے مطابق سیاسی تصفیے تک پہنچنے پر زور دیا۔
جانبین نے یمن میں صدارتی قیادت کونسل کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ یمنی بحران کے جامع سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے اقوام متحدہ کی جانب سے اور علاقائی سطح پر کی جانے والی کوششوں کی حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔
سوڈان کے حوالے سے جانبین نے اعلان جدہ پر عمل درآمد اور سوڈان میں شہریوں کے تحفظ کے علاوہ مکمل فائر بندی کے لیے بات چیت جاری رکھنے، سوڈانی عوام کی مشکلات ختم کرنے اور سوڈان کی وحدت، خود مختاری برقرار رکھنے پر زور دیا۔
جانبین نے یوکرین میں جنگ کے حوالے سے سعودی برطانوی رابطہ جاری رکھنے کا خیر مقدم کیا۔ ساتھ ہی تمام ممکنہ کوششوں پر زور دیا گیا تا کہ ایک منصفانہ اور پائے دار امن کو یقینی بنایا جا سکے جو اقوام متحدہ کے منشور سے مطابقت رکھتا ہو۔
جانبین نے انسانی اور امدادی شعبے میں تعاون بڑھانے کی اہمیت کو باور کرایا اور بین الاقوامی فورموں پر اور بین الاقوامی اداروں میں تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جانبین نے 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے باہمی کوششیں یکجا کرنے اور سالانہ بنیادوں پر سعودی برطانوی تزویراتی مکالمہ منعقد کرنے پر زور دیا۔ اس کا مقصد بین الاقوامی سطح پر انسانی امدادات اور ترقی کو زیر بحث لانا ہے۔ اسی طرح جانبین نے ہنگامی انسانی امداد کے سلسلے میں 10 کروڑ امریکی ڈالر کے منصوبوں کے لیے مشترکہ فنڈنگ پر اتفاق کیا۔
سعودی برطانوی مشترکہ بیان کی تفصیلات میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاع اور سیکورٹی کے شعبے میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری خصوصی تعاون کی سطح کو سراہا گیا۔ جانبین نے مرکزی شعبوں میں تعاون وسیع کرنے پر اتفاق کیا جن میں سائبر اینڈ الیکٹرومیگنیٹک ایکٹویٹی، جدید اسلحہ، زمینی افواج، لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔
جانبین نے انسداد دہشت گردی اور سائبر سیکورٹی میں اضافے کے سلسلے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
جانبین نے صحت اور طبی نگہداشت کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے کی اہمیت کو بھی باور کرایا۔ اس میں نرسنگ اسٹاف کی تربیت کے لیے مشترکہ منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ صحت کے عالمی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
جانبین نے تعلی، اعلی تعلیم اور تربیت کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے بیچ تزویراتی تعاون کے نتائج کو سراہا۔ مزید یہ کہ 2030 تک سعودی عرب میں برطانوی اسکولوں کی تعداد 10 تک پہنچانے کے لیے تزویراتی منصوبہ بندی کو خوش آئند قرار دیا۔
جانبین نے دونوں ملکوں کے بیچ اقتصادی شراکت داری میں اضافے کی اہمیت پر اتفاق کیا اور 2030 تک متبادل تجارت کا حجم 37.5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کو دہرایا۔ اس کے علاوہ باہمی سرمایہ کاری میں اضافے پر بھی زور دیا گیا۔
جانبین نے متبادل سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے کو سراہا بالخصوص 2024 میں مملکت متحدہ میں سعودی عرب کی بڑی سرمایہ کاری سرگرمیوں پر روشنی ڈالی گئی۔ ان میں سعودی جنرل انویسٹمنٹ فنڈ کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ اسی طرح مملکت متحدہ کا شمار سعودی عرب میں سب سے بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ جانبین نے توانائی، بجلی، قابل تجدید توانائی، صاف ہائیڈروجن، پیٹروکیمیکلز، معدنیات، ٹکنالوجی، مالیاتی خدمات، بینکنگ، مالیاتی ٹکنالوجی، اثاثوں کے انتظام، گرین فنڈنگ اور انشورنس کے شعبوں میں تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
جانبین نے ماحولیات کی تبدیلی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے سمجھوتے کی مرکزیت اور پیرس سمجھوتے پر روشنی ڈالی۔ اس کے علاوہ برطانیہ نے گرین سعودی عرب اور گرین مڈل ایسٹ منصوبوں کے حوالے سے سعودی عرب کی قیادت کی خواہشات کا خیر مقدم کیا۔