ترکیہ کے وزیرِ دفاع یسار گولر نے کہا ہے کہ شام میں نئی انتظامیہ کے تعمیری پیغامات کے بعد انہیں حکومت کرنے کا ایک موقع ملنا چاہیے اور اگر فوجی تربیت کی درخواست کی گئی تو ترکیہ ایسی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
نیٹو کے رکن ترکی نے صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے والے مسلح شامی گروہوں کی حمایت کی۔ ترکی نے اپنے انٹیلی جنس سربراہ کے شامی دارالحکومت کے دورے کے دو دن بعد ہفتے کے روز دمشق میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول دیا۔
گولر نے اتوار کے روز انقرہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، "الاسد کو معزول کرنے والی نئی انتظامیہ نے اپنے پہلے بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ تمام سرکاری اداروں، اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کا احترام کرے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دیکھنا ہو گا کہ نئی انتظامیہ کیا کرے گی اور انہیں ایک موقع دیا جائے۔"
کیا ترکی شام کی نئی حکومت کے ساتھ فوجی تعاون پر غور کر رہا ہے، اس سوال کے جواب میں گولر نے کہا کہ انقرہ کے پہلے ہی کئی ممالک کے ساتھ فوجی تعاون اور تربیتی معاہدے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "اگر نئی انتظامیہ اس کی درخواست کرے تو [ترکی] ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔"
اپنی قومی سلامتی کو لاحق خطرات کی بنا پر ترکی نے 2016 سے شمالی شام کے بڑے حصوں میں چار فوجی کارروائیاں کی ہیں۔
اندازہ ہے کہ شمال مغربی شام میں عفرین، اعزاز اور جرابلس اور شمال مشرق میں راس العین اور تل ابیض سمیت قصبوں میں ترکی چند ہزار فوجیوں کو برقرار رکھے گا۔
گولر نے کہا، جب ضروری حالات پیدا ہوں گے تو انقرہ شام میں ترکی کی فوجی موجودگی کے معاملے پر شام کی نئی انتظامیہ سے بات چیت اور دوبارہ جائزہ لے سکتا ہے۔
'دہشت گردوں' کا خاتمہ
گولر نے کہا کہ ترکی کی ترجیح کرد وائی پی جی ملیشیا کا خاتمہ ہے جو امریکی حمایت یافتہ شامی حزبِ اختلاف گروپ کا حصہ ہے اور انہوں نے یہ بات واشنگٹن پر واضح کر دی ہے۔
شام کے تیل کے سب سے بڑے ذخیرے کو کنٹرول کرنے والی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) داعش کے دہشت گردوں کے خلاف امریکی اتحاد میں اہم اتحادی ہے۔ اس کی سربراہی وائی پی جی کر رہی ہے جسے انقرہ کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی توسیع سمجھتا ہے اور اس کے عسکریت پسند 40 سال سے ترک ریاست کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔
گولر نے کہا، نئے دور میں شام میں وائی پی جی/پی کے کے دہشت گرد تنظیم جلد یا بدیر ختم کر دی جائے گی۔ تنظیم کے شام کے باہر سے آنے والے ارکان شام چھوڑ دیں گے۔ جو شامی ہیں وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں گے۔"
گولر نے کہا کہ ترکی کو امریکہ کے نقطۂ نظر کے برعکس شام میں داعش کے دوبارہ سر اٹھانے کے آثار نظر نہیں آئے۔
انہوں نے داعش کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا، "کیا کسی نے گذشتہ تین سالوں میں شام میں داعش کے دہشت گردوں کے کسی حملے کے بارے میں سنا ہے؟ ہمیں اس وقت داعش کے بارے میں کوئی بات دیکھنے یا سننے کو نہیں ملی۔"
گولر نے کہا کہ ترکی نے ماضی میں امریکہ کو بتایا ہے کہ انقرہ داعش سے لڑنے اور داعش کے خاندانوں کے لیے الھول حراستی کیمپ چلانے کے لیے شام میں تین کمانڈو بریگیڈ تعینات کر سکتا ہے لیکن امریکہ نے یہ دونوں پیش کشیں مسترد کر دیں۔
"اس کے بجائے انہوں نے داعش کے خلاف جنگ کے پرچم تلے وائی پی جی/پی کے کے دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعاون کیا۔ لیکن آپ ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ دوسری دہشت گرد تنظیم سے نہیں لڑ سکتے۔"
الاسد کے ایک دیرینہ اتحادی روس جس نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں انہیں سیاسی پناہ دی، کی مستقبل میں شام میں شمولیت کے بارے میں سوال پر گولر نے کہا کہ انہیں روس کے مکمل انخلاء کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔
انہوں نے کہا، روس اپنے فوجی اثاثہ جات کو شام کے مختلف حصوں سے ملک میں اپنے دو مراکز میں منتقل کر رہا ہے - لطاکیہ میں حمیمیم ایئر بیس اور طرطوس میں ایک بحری فوجی مرکز۔
انہوں نے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ روسی [شام] چھوڑنے والے ہیں۔ وہ وہاں قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔"