مصنوعی ذہانت میں کامیابیاں: یونیسکو کی جانب سے سعودی عرب کی تعریف

مملکت کی کامیابیوں کو "عالمی معیار" کے طور پر سراہا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی پریس ایجنسی نے اطلاع دی کہ اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو نے ہفتے کے روز ایک رپورٹ جاری کی جس میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سعودی عرب کی ترقی کو نمایاں کیا گیا۔

ایس پی اے کے مطابق یہ رپورٹ جو یونیسکو کی اے آئی ریڈی نیس اسسمنٹ میتھڈولوجی کے ذریعے اے آئی کی تیاری کی پیمائش کرنے کے اقدام کا حصہ ہے، اس میں "جدید ٹیکنالوجیز کو اخلاقی اور اختراعی طور پر اختیار کرنے کے لیے ایک عالمی معیار" کے طور پر مملکت کی کامیابیوں کو سراہا گیا ہے۔

یونیسکو کی رپورٹ نے چھے اہم شعبوں میں سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت ( اے آئی) کی تیاری کا جائزہ لیا: قومی حکمرانی؛ قانون سازی اور ضوابط؛ سماجی اور ثقافتی؛ تحقیق و تعلیم؛ اقتصادی اثرات اور تکنیکی انفراسٹرکچر۔ اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ مملکت پائیدار نتائج حاصل کرتے ہوئے اے آئی کو اخلاقی اور ذمہ دارانہ طور پر اپنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

رپورٹ میں 2019 میں سعودی ڈیٹا اینڈ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اتھارٹی کے قیام اور 2020 میں ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے لیے قومی حکمتِ عملی کے اجراء کو سعودی عرب کے اے آئی سفر میں اہم اقدامات کے طور پر نمایاں کیا گیا اور ایک مضبوط ریگولیٹری ماحول کو فروغ دینے کے لیے مملکت کے عزم کی تعریف کی گئی۔

یونیسکو کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل برائے سماجی و انسانی علوم گیبریلا راموس نے اے آئی طرزِ حکمرانی کے لیے مضبوط بنیادیں قائم کرنے پر سعودی عرب کی کوششوں کو تسلیم کیا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پائیدار، مساوی نتائج حاصل کرنے کے لیے مملکت کی صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔

عالمی مصنوعی ذہانت کی فہرست 2024 کے مصنوعی ذہانت کے زمرے میں سعودی مملکت عالمی سطح پر پہلے نمبر پر آئی۔ مصنوعی ذہانت کی فہرست 2023 کے مطابق اے آئی کے بارے میں عوامی بیداری میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر اور مجموعی طور پر اے آئی کی کارکردگی میں علاقائی طور پر پہلے نمبر پر آئی۔

بنیادی ڈھانچے کی ترقی ایک اور مضبوط شعبہ رہا ہے۔ مملکت نے 2023 میں اپنے ڈیٹا سینٹرز کی صلاحیت کو 204 میگا واٹ تک بڑھایا، جدید ترین سپر کمپیوٹر شاہین تھری لانچ کیا اور سعودی پرائیویٹ انٹیگریشن نیٹ ورک ایکسچینج سمیت دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے جدید ڈیجیٹل کمیونیکیشن شروع کی۔

رپورٹ میں جدت طرازی اور سائنسی تحقیق میں سعودی عرب کی پیش رفت پر بھی روشنی ڈالی گئی - یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ 2019 اور 2023 کے درمیان اے آئی سے متعلق تحقیقی اشاعتیں 4,100 سے بڑھ کر 10,500 تک ہو گئیں نیزSDAIA-KAUST سمیت اے آئی کے ادارے قائم کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں