حماس نے معاہدے کے پہلے مرحلے میں جنگ مکمل طور پر ختم کرنے کی شرط ترک کر دی: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک باخبر ذریعے نے العربیہ اور الحدث کو اطلاع دی کہ غزہ معاہدے کے حوالے سے کچھ متنازعہ معاملات میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، کیونکہ اس وقت امریکہ، قطری اور مصر کی جانب سے فریقین پر جنگ بندی کے لیے ایک بار پھر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ہمارے ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ حماس نے معاہدے کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ ترک کرنے پر اتفاق کیا اور پہلے مرحلے میں جنگ کو مکمل طور پر ختم کرنے کی شرط کو ترک کر دیا۔

العربیہ اور الحدث کے ذرائع نے مزید کہا کہ حماس نے بیماروں، بوڑھوں اور قیدی خواتین فوجیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے اور ساتھ ہی سینئر فلسطینی قیدیوں کو قطر اور ترکیہ بھیجنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ہمارے ذرائع نے بتایا کہ حماس شمال میں واپسی پر رہائشیوں کے لیے کسی بھی چیک پوائنٹ کی موجودگی کو مسترد کرتی ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ معاہدے کے تمام مراحل پر عمل کرنے کے لیے تحریری بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کی جائیں۔

منگل کو امریکہ نے غزہ میں جنگ بندی میں بار بار کی ناکامی کو سامنے رکھتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے امکان کے بارے میں "محتاط امید" کا اظہار کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "میرے خیال میں محتاط رجائیت صورت حال کو بیان کرنے کا ایک منصفانہ طریقہ ہے۔ حقیقت پسندی کے تناظر میں صورت حال کو دیکھا جائے تو معاہدے کا امکان بہت کم ہے"۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ "ماضی میں ایسے وقت بھی آئے جب ہم (ایک معاہدے) کے قریب تھے اور ہم سمجھتے تھے کہ اختلافات کو ختم کرنا ممکن ہے،لیکن آخر کار ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "امریکہ دباؤ ڈالنا اور تصفیے تک پہنچنے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن ہم ہر فریق کے انتخاب کا حکم نہیں دے سکتے۔ دونوں فریقوں کو یہ فیصلے خود کرنے چاہیں"۔

اسرائیلی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ 10 دنوں میں غزہ میں جنگ روکنے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچنا ممکن ہے جب کہ باخبر ذرائع نے ’العربیہ‘ اور الحدث کو انکشاف کیا ہے کہ غزہ پر حتمی معاہدہ ہونے کے قریب ہے۔

حماس نے کہا کہ اگر اسرائیل نئی شرائط طے کرنا بند کر دے تو معاہدہ ممکن ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے اور قیدیوں کے تبادلے پر اس دسمبر کے آخر میں عمل درآمد شروع ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں