یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے منگل کے روز دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے وسطی اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے اس دعوے کے مطابق انہوں نے ایک فوجی مرکز کو ہٹ کیا۔
تاہم اسرائیل کی فوج نے جوابی دعوے میں کہا ہے کہ حوثی میزائل حملے کو کامیابی سے راستے میں ہی روک دیا اور اسرائیلی حدود میں داخل ہونے سے پہلے میزائل کو تباہ کر دیا۔
حالیہ دنوں میں یمنی حوثیوں کا اسرائیلی شہروں پر حملے کی یہ دوسری کوشش تھی۔ اس سے پہلے اسرائیل کے سب سے بڑے تجارتی شہر تل ابیب پر حوثیوں کے میزائل حملے سے 16 اسرائیلی زخمی ہوگئے تھے۔ جس کے بعد یہ دوسرا حملہ تھا جو اسرائیلی فوج کے مطابق ناکام بنا دیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ خطرے کے سائرن بجنے کی آوازیں سنتے ہی یمن کی طرف سے آنے والے میزائل کو راستے میں روک لیا گیا تھا۔
اسرائیل کے ہنگامی طبی خدمات کے ادارے 'میگن ڈیورڈ ایڈوم' نے کہا ہے کہ اسے اس حملے کے نتیجے میں کسی کے زخمی ہونے یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
نیتن یاہو نے تل ابیب پر حالیہ حوثی حملے کے بعد پارلیمان کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی تمام افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ حوثیوں کے فوجی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیں اور جو بھی اسرائیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے اسے پوری قوت سے کچل دیں۔
واضح رہے حوثی پچھلے سال نومبر سے اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کو بحیرہ احمر میں نشانہ بنا رہے ہیں۔
یمن میں ان حوثیوں کے فوجی مراکز اور تنصیبات کو امریکہ و برطانیہ نے بار بار نشانہ بنایا ہے۔ تاہم ان کی کارروائیاں کرنے کی استعداد ابھی باقی ہے ۔ اب حوثیوں نے اسرائیل کے شہروں کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔