سعودی عرب کے بہرے پن سے دوچار نوجوجوان خالد السبیعی کی خوبصورت مسکراہٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو ہرایک اس مسکراہٹ کے پیچھےراز کو جاننے کے لیے بے تاب ہوگیا۔ صارفین یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ خالد نے اپنی بے ساختہ مسکراہٹ کا مظاہرہ کیوں کیا حالانکہ وہ سننے یا بولنے کی صلاحیت قدرتی طور پر پیدائشی محروم ہے۔ تاہم اس نے اپنی قوت گویائی و سماعت سے معذوری کے باوجود دنیا کو قوت ارادی اور امید کا سبق دیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ سے رابطے کے دوران خالد نے اشاروں کی زبان میں بتایا کہ وہ خصوصی آلہ سماعت لگائے جانے کے بعد سماعت سے بہرہ مند ہوگیا ہے۔ یہ مسکراہٹ اس کی ناقابل بیان خوشی کا اظہار ہے۔ خالد نے بتایا کہ "اس لمحے نے میری زندگی بدل دی اور میرے ارد گرد کی دنیا کے ساتھ بات چیت میں اضافہ کیا۔ میں سنتا ہوں کہ میرے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔ اشاروں کی زبان ایک بہرے شخص کے جذبات کا اظہار کرتی ہے، لیکن میں گفتگو یکھنے اور دوسروں کے ساتھ بات چیت کرنے کا بھی شوقین ہوں۔
خالد السبیعی نے "خالد مسکراہٹ" کے عنوان سے شہرت کی طرف اپنے سفر کی کہانی سنائی۔ اس نے کہا کہ وہ اس لقب کے ساتھ اپنی سماجی شخصیت اور اداکاری سے محبت کی بدولت چار سال قبل ٹک ٹاک پلیٹ فارم پر بھی وائرل ہوئے اس کے علاوہ "شباب البومب" جیسے فنکارانہ کاموں میں شرکت کی۔
خالد نے اس بات پر زور دیا کہ وہ لوگوں میں مسکراہٹیں پھیلا کر معذوری کے چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اگر میں کسی کو پریشان دیکھتا ہوں، تو میں ہمیشہ اسے ہنسانے کی کوشش کرتا ہوں،اس جذبے نے اسے مشہور شخصیات سمیت ہر کسی کی طرف سے پیار دیا‘‘۔