شام میں جنگ کو مانیٹر کرنے والے ادارے نے رپورٹ کیا ہے کہ بدھ کے روز اس وقت نو افراد ہلاک ہو گئے جب بشارالاسد کے دور کے ایک افسر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔
گرفتاری کی یہ کوشش طرطوس صوبے میں کی گئی تو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو جھڑپ کی شکل اختیار کر گئی۔
بتایا گیا ہے جس افسر کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی وہ بشار دور کی بدمام زمانہ جیل کے حکام میں شامل تھا۔
شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق اس جھڑپ کے دوران شام کی نئی رجیم کی جنرل سیکیورٹی کے چھ ارکان کے ساتھ ساتھ تین مسلح افراد بھی ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ خیربیت المازا میں پیش آیا ہے۔
جب حکومت کی جنرل سیکیورٹی کے ارکان نے صیدنایا جیل کے سابق افسر کو گرفتار کیا تو جھڑپ شروع ہو گئی اور یہ ہلاکتیں ہوئیں۔
دمشق میں قائم اس بد نام زمانہ جیل کے دروازے نئی شامی رجیم کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کھول دیے گئے تھے ۔ جس کے ساتھ ہی بے شمار کہانیاں بھی سامنے آئیں۔
بشارالاسد کے دور میں 13 برس تک شام بد لترین خانہ جنگی میں گرفتار رہا اور بشارالاسد کی حکومت نے اپنے باغیوں کے لیے صیدنایا جیل قائم کر کے انہیں اذیتیں دے کر قید رکھنے کا سامان کیا۔ خانہ جنگی کے باعث پانچ لاکھ شامی شہری موت کے گھاٹ اترے۔
ادھر سرکاری حکام نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ صوبہ طرطوس میں جیل کے ایک افسر کی گرفتاری کے موقع پر سخت جھڑپ ہوئی ہے۔
خیال رہے طرطوس علویت اقلیت کا اہم گڑھ ہے۔ صیدنایا جیل کے جس افسر کی گرفتاری کے لیے سرکاری ٹیم گئی تھی وہ بشار دور کی ملٹری جسٹس کے شعبے کا ڈائریکٹر تھا ۔ جس کے حکم سے بہت سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ تاہم حکام نے اس کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔