اسرائیل کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر کو رہا کرے: عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت نے قرار دیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کے ہسپتالوں کو بمباری اور حملے کر کے ایک مرتبہ پھر میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے غزہ کے ہسپتال اور علاج معالجے کا پورا نظام شدید خطرے میں ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈھانوم گیبریئس نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے۔
غزہ کے کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر کو اسرائیل کی فوج نے ہسپتال پر اپنے حالیہ حملے کے دوران حراست میں لیا ہے۔ اس دوران یہ کمال عدوان نامی ہسپتال بطور غزہ کے آخری ہسپتال تھا جو کسی حد تک فلسطینی زخمیوں اور مریضو ں کی خدمت کے لیے دستیاب تھا۔ لیکن اس کی طبی سہولیات کا جاری رہ سکنا بھی انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر حسام ابو صفیہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ابو صفیہ کو اسرائیلی فوج کی بمباری سے کھنڈر بنا دیے گئے ہسپتال سے سفید گاؤن پہنے باہر آتے ہوئے ایک ویڈیو میں دیکھا گیا ہے جس کے بعد اسرائیلی فوج نے انہیں حراست میں لیا۔ ڈائریکٹر ابو صفیہ کی یہ ویڈیو وائرل ہو کر دنیا بھر میں پھیل چکی ہے۔ اس گرفتاری اور غزہ کے ہسپتالوں کی تباہی پر دنیا بھر میں انسانی بنیادوں پر سوچنے والے ڈاکٹروں میں بھی گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے بھی اسرائیلی فوج کی غزہ کے ہسپتالوں پر کی گئی کارروائیوں کے بارے میں گہری تشویش ظاہر کرتے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کمال عدوان ہسپتال پر تازہ حملہ کئی دن جاری رہا ہے۔ یہ ہسپتال شمالی غزہ کے علاقے بیت لاھیہ میں ہے۔ ہسپتال کے ڈائریکٹر ابو صفیہ کو بھی اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے ابو صفیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بیت لاھیہ میں اپنی اس کارروائی کے دوران 20عسکریت پسندوں کو ہلاک اور 240کو تحویل میں لیا ہے۔
واضح رہے اسی علاقے میں کمال عدوان ہسپتال اسرائیلی فوجی کارروائی کا نشانہ بنارہا ہے۔ اسرائیلی فوج اپنے حالیہ کارروائی کو اس علاقے میں اب تک کی جنگ میں سب سے شدید کارروائی قرار دے رہی ہے۔ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں تقریبا تین ماہ قبل نئے سرے سے بمباری اور حملوں کا پہلے سے بھی نسبتا زیادہ شدید سلسلہ شروع کیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے مطابق بیت لاھیہ میں کمال عدوان ہسپتال اسرائیلی فوج کے حالیہ حملوں کے بعد طبی خدمات جاری رکھنے کی پوزیشن میں نہیں رہا ہے۔ کیونکہ طبی عملے کو بھی اسرائیلی فوج نے جبری طور پر ہسپتال سے نکال دیا ہے اور ڈائریکٹر کو حراست میں لے رکھا ہے۔ ہم ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے مطابق کمال عدوان سے زخمیوں اور مریضوں کو انڈونیشیا ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ۔
تاہم انڈونیشیا ہسپتال پہلے ہی قریب قریب عملا ناکارہ ہو چکا ہسپتال ہے۔ اس لیے غزہ میں زخمیوں اور مریضوں کی حالت ناقابل بیان ہے۔
ٹیڈروس ایڈھانوم نے کہا ' شمالی غزہ میں جو تباہی کی صورت حال ہے اس میں عالمی ادارہ صحت کے شراکت دار انسانی بنیادوں پر ادویات کی فراہمی سمیت ابتدائی ضروریات کی فراہمی کے لیے کوشاں ہیں۔ جبکہ انڈونیشا ہسپتال اور الشفاء ہسپتال میں دس انتہائی نازک حالت والے مریضوں کو منتقل کیا گیا ہے۔ ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مریضوں کے علاج کے لیے تمام ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے جو ان کا بین الاقوامی قانون کے تحت حق ہے۔
انہوں نے کہا 'غزہ کے الاہلی ہسپتال اور الوفا ہسپتال اس وقت کچھ بھی طبی سہولت فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کیوںکہ وہ خود بھی اسرائیلی حملوں کی زد میں ہیں'۔
-
’غزہ کے ہسپتالوں کوعسکریت پسندوں کے استعمال کے اسرائیلی الزامات "مشکوک" ہیں
منگل کو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ غزہ ...
مشرق وسطی -
کے ایس ریلیف کی جانب سے یمن، غزہ میں امدادی منصوبوں میں تیزی
امدادی سامان میں سرد موسم کے لیے کمبل اور گدے شامل
مشرق وسطی -
غزہ میں اسرائیلی بمباری : ہسپتال اور دیگر طبی سہولیات مکمل تباہی کے دہانے پر
غزہ میں طبی سہولیات کے لیے علاج گاہیں مکمل تباہی کے کنارے پر پہنچ گئیں۔ یہ بات ...
مشرق وسطی