ریاض کی میزبانی میں شام کی حمایت پر عرب، یورپی یونین کے سفارت کاروں کے مذاکرات

الاسد کے بعد شام کے حالات اور پابندیاں اٹھانے پر غور ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شرقِ اوسط اور یورپ کے اعلیٰ سفارت کار اتوار کو سعودی دارالحکومت میں شام پر مذاکرات کے لیے پہنچے کیونکہ عالمی طاقتیں بشار الاسد کے خاتمے کے بعد استحکام کے لیے زور دے رہی ہیں۔

شام پر ریاض اجلاس کا آغاز سب سے پہلے شام کے وزیرِ خارجہ اسد الشیبانی کے ہمراہ سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان کی سربراہی میں ہوا اور اس میں مصر، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، بحرین، عراق، لبنان اور کویت جیسے عرب ممالک شامل تھے۔

ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان بعد میں مذاکرات میں شامل ہوئے۔

ان اجلاسوں میں فرانس، یورپی یونین اور اقوام متحدہ سمیت دیگر کی بھی وسیع تر شرکت ہو گی۔ ٹی وی فوٹیج میں جرمن وزیرِ خارجہ اینالینا بیرباک کو کانفرنس کے مقام پر پہنچتے ہوئے دکھایا گیا جہاں مذاکرات ہو رہے تھے۔

یہ اجتماع ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام کے نئے رہنما احمد الشرع پابندیوں میں نرمی کے لیے زور دے رہے ہیں۔

الاسد کی حکومت کی جانب سے 2011 میں حکومت مخالف مظاہروں پر وحشیانہ کریک ڈاؤن کرنے پر امریکہ اور یورپی یونین سمیت مغربی طاقتوں نے شام پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

شام میں 13 سال سے زائد عرصے سے جاری تنازعہ میں نصف ملین سے زائد افراد جان سے گئے، معیشت تباہ ہو گئی اور لاکھوں افراد اپنے گھر بار چھوڑ کر یورپ سمیت دیگر ممالک میں فرار ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔

یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کالس نے جمعے کے روز کہا کہ اگر شام کے نئے حکمران اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے والی ایک جامع حکومت کی تشکیل کے لیے اقدامات کریں تو 27 ملکی بلاک پابندیاں ہٹانا شروع کر سکتا ہے۔

اس ماہ سعودی مملکت نے شام کے لیے خوراک، پناہ گاہ اور طبی سامان زمینی اور ہوائی راستے سے بھیجا ہے۔

ریاض اب مذاکرات کر رہا ہے کہ اس سے آگے بڑھ کر جنگ زدہ ملک میں حکومت کی منتقلی کی حمایت کیسے کی جائے۔

ایک سعودی اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ الاسد کے بعد شام کے حالات کے حوالے سے گذشتہ ماہ اردن میں جو مذاکرات ہوئے،

اتوار کو ریاض میں ہونے والی ملاقاتیں اسی کے تسلسل کی نمائندگی کرتی ہیں۔

ترک اور جرمن وزرائے خارجہ ان حکام میں شامل ہیں جنہوں نے ہفتے کی شام تک اپنی حاضری کی تصدیق کی تھی۔

امریکہ کے ماتحت سکریٹری خارجہ جان باس بھی مذاکرات میں شرکت کرنے والے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ترکیہ میں ہونے والے مذاکرات سے آ رہے ہیں جن میں جزوی طور پر "علاقائی استحکام کی اہمیت، شام کو دہشت گردی کے مرکز کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے اور داعش کی مستقل شکست کو یقینی بنانے" کا احاطہ کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں