ابتدائی طور پر سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق حماس اس امکانی معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں 33 اسرائیلی قیدیوں کوغزہ سے رہائی دے گی۔ یہ اسرائیلی سات اکتوبر 2023 سے حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی قید میں ہیں۔
پہلے مرحلے میں اسرائیل اپنے 33 قیدیوں کے رہائی ممکن بنانے کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے 1000 فلسطینی اسیران کو رہا کرے گا۔ تاہم یہ ایک ہزار کے لگ بھگ فلسطینی اسیران پہلے مرحلے پر رہائی پائیں گے۔ یہ بات منگل کے روز اسرائیلی اور فلسطینی دونوں ذرائع نے بتائی ہے۔
قطر اور مصر کے ثالثوں کے علاوہ اسرائیل کے سب سے بڑے سرپرست اور اتحادی امریکہ کی طرف سے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ ایک معاہدہ ممکن ہو جائے۔ قطر کا کہنا ہے کہ 'امکانی معاہدہ حتمی شکل پانے کے قریب تر ہے۔ '
قیدیوں کی تبادلے میں رہائیاں
اب تک معلوم کیے جا سکے اس کے کلیدی نکات میں سب سے اہم بات اسرائیلی قیدیوں اور فلسطینی اسیران کی تبادلے میں ہونے والی رہائیاں بتائی گئی ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے منگل کے روز کہا ' اسرائیل کی کوشش ہے کہ ہمارے 33 قیدی پہلے مرحلے پر رہا کرا سکیں۔
اسرائیلی ترجمان نے آن لائن میڈیا بریفنگ کے دوران کہا ' اسرائیل جیلوں میں بند کیے گئے سینکڑوں فلسطینیوں کو تبادلے میں رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیل اپنے لوگوں کی رہائی کی بھاری قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔'
ایک اور اسرائیلی عہدے دار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا' کئی سو فلسطینی دہشت گردوں کی رہائی اپنے قیدیوں کے بدلے میں کرنے کو تیار ہے۔ لیکن اس کے بدلے میں یہ ابھی دیکھنا ہوگا کہ 33 اسرائیلیوں میں سے زندہ کتنے ہیں اور کتنے مر چکے ہیں۔'
فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے دو مختلف ذرائع نے ' اے ایف پی ' کو بتایا ہے کہ ایک ہزار کے قریب فلسطینی اسیران رہا ہو سکتے ہیں۔ ان اسیران میں طویل سزائے قید کاٹنے والے فلسطینی بھی شامل ہوں گے۔ واضح رہے غزہ میں باقی ماندہ 94 اسرائیلی قیدیوں میں سے 33 کی رہائی کی امید کی جا رہی ہے۔ یاد رہے اسرائیلی ذرائع عام طور پر ان میں 34 قیدیوں کو مردہ قرار دیتے ہیں۔
حماس کے ایک ذریعے کے مطابق معاہدے کی صورت میں ابتدائی طور پر رہا ہونے والے 33 اسرائیلیوں میں بچے اور خواتین بطور خاص شامل ہوں گے۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبار ' ٹائمز آف اسرائیل ' کا کہنا ہے کہ حکام یقین رکھتے ہیں کہ پہلے مرحلے پر رہا ہونے والے 33 قیدی زندہ ہیں۔ تاہم ابھی حماس کی طرف سے اس بات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ پچھلے ہفتے حماس نے اشارہ دیا ہے کہ 34 قیدیوں کو پہلے مرحلے پر رہا کر دیا جائے گا۔
اسرائیلی بفر زون
دوسرے مرحلے کے لیے مذاکرات جنگ بندی کے سولہویں دن دوبارہ شروع ہوں گے۔ یہ بات اسرائیلی حکام نے بیان کی ہے۔ اس دوسرے مرحلے میں بقیہ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی ممکن بنائی جائے گی۔ ان میں اسرائیلی فوجی ، فوجی عمر کے اسرائیلی قیدی اور ہلاک ہو چکے اسرائیلیوں کی لاشیں بھی اس دوسرے مرحلے میں اسرائیل بھیجی جائیں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے پہلے مرحلے کے دوران اسرائیلی فوج غزہ میں بفر زون قائم کرے گی۔ توقع کی جارہی ہے کہ اسرائیلی فوج 800 میٹر کے علاقے تک غزہ میں موجود رہے گی۔ یہ علاقہ رفح سے جڑا ہوگا۔ جبکہ شمالی حصے حنون میں بھی رہے گی۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج اس وقت تک غزہ سے مکمل طور پر نہیں نکلے گی جب تک تمام قیدیوں کو غزہ سے رہائی نہیں مل جائے گی۔ اخبار ' ہارٹز' کے مطابق اسرئیلی حکام غزہ کے فلسطینیوں کو جنوب سے شمال کی طرف جانے کی اجازت دے دے گی۔
حماس کے ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوج نیٹرازم کے علاقے سے نکل جائے گی اور صلاح الدین روڈ کے مشرق کی طرف چلی جائے گی تاکہ نقل مکانی کر کے جا چکے فلسطینی شہری ایلیکٹرک چیک پوائنٹ سے گزر کر واپس آسکیں۔ اس چیک پوائنٹ پر کیمرے لگے ہوں گے۔
اس موقع پر اسرائیلی فوجی موجود نہ ہوں گے اور نہ ہی فلسطینیوں کو روکیں گے۔