غزہ: جنگ بندی معاہدے سے ایک دن قبل ہی فیلڈ میں امن قائم کرنے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ہفتے کی صبح سے غزہ پر مسلسل اسرائیلی بمباری کے باوجود ایسا لگ رہا ہے کہ جنگ بندی کے عمل میں آنے سے پہلے صورت حال کو پرسکون کرنے کے لیے ایک معاہدہ ہوا ہے۔ آج ہفتے کے روز ذرائع نے العربیہ کو اطلاع دی ہے کہ آج سہ پہر سے شروع ہونے والے فیلڈ امن پر ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ اس کا مقصد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے تیاری کا موقع فراہم کرنا ہے۔

مسلسل بمباری

العربیہ کے نامہ نگار نے ہفتہ کے اوائل میں گزشتہ گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملوں کی تعدد میں اضافے کی اطلاع دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی بندوق بردار کشتیوں نے غزہ شہر کے ساحل کی طرف اور غزہ کی پٹی کے وسط میں نصیرات کیمپ کی طرف اور اس کے شمال کی طرف بھی فائرنگ کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیلی ٹینک اب بھی غزہ کے شمال میں رہائشی علاقوں میں موجود ہیں۔

قیدیوں کی تعداد

توقع ہے 42 دن تک جاری رہنے والے معاہدے کے پہلے مرحلے میں 33 اسرائیلی زیر حراست افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔ 33 یرغمالیوں کے بدلے اسرائیل اپنی جیلوں سے 737 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔ ان قیدیوں میں میں زیادہ تر خواتین اور نابالغ افراد شامل ہیں۔

واضح رہے بدھ 15 جنوری کو اسرائیل اور حماس کے درمیان معاہدے کے اعلان کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی حملے کم نہیں ہوئے تھے۔ اس جنگ میں غزہ کی بیشتر عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ سول ڈیفنس نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کو جنگ بندی اعلان کے بعد اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جمعہ تک 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ غزہ میں مہینوں تک جاری رہنے والی تلخ اور خونریز جنگ کے نتیجے میں 46000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی قتل عام میں زیادہ تر خواتین اور بچوں کو قتل کیا گیا ہے۔

اسرائیل کی طرف سے عائد پابندیوں کی بدولت طبی اور غذائی امداد کی کمی کے درمیان 15 مہینوں میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی ایک سے زیادہ مرتبہ بے گھر ہوئے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں انسانی صورتحال مزید بگڑ گئی۔ ہر طرف بھوک اور بیماری کا راج ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں