جنگ بندی کے فوری بعد پٹی کے تمام گورنریوں میں اہلکار تعینات کرینگے: غزہ کی وزارت داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی پر کون حکومت کرے گا، یہ معاملہ ابھی ابھام کا شکار ہے تاہم حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کی فوجیں کل اتوار کو طے شدہ جنگ بندی کے نافذ العمل ہوتے ہی پٹی میں تعینات ہو جائیں گی۔ غزہ میں حماس کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس کی افواج جنگ بندی معاہدے کے نافذ ہونے کے فوراً بعد پٹی کے تمام گورنریٹس میں اپنی تعیناتی شروع کر دیں گی۔

غزہ کی وزارت داخلہ نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر پوسٹ ایک بیان میں مزید کہا کہ ہمارے فلسطینی عوام کی شاندار ثابت قدمی اور جنگ روکے جانے کے معاہدے کے اعلان کے بعد وزارت داخلہ اور قومی سلامتی کے ادارے تمام گورنریٹس میں تعیناتیاں شروع کر دیں گے تاکہ غزہ کی پٹی اور عوام کی خدمت کریں۔

وزارت داخلہ نے تمام شہریوں سے کہا کہ وہ سرکاری اور نجی املاک کا تحفظ کریں۔ کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کریں جس سے ان کی زندگیوں کو خطرہ ہو۔ پولیس، سکیورٹی اور سروس ایجنسیوں کے افسران اور ارکان کے ساتھ تعاون کریں۔

اتوار کی صبح

قطری وزارت خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ یہ جنگ بندی اتوار کی صبح ٹھیک ساڑھے آٹھ بجے مقامی وقت کے مطابق نافذ العمل ہوگی۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعہ کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ فلسطینی اتھارٹی غزہ کی پٹی میں اپنی پوری ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ریاست اور اس کے اداروں کا غزہ کی پٹی پر بھی قانونی اور سیاسی دائرہ اختیار اسی طرح ہے جیسا کہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں ہے۔

محمود عباس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس بات پر ابھی تک غیر یقینی صورتحال موجود ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ کی پٹی کا انتظام کون سنبھالے گا۔ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ امریکی، مصری اور قطری قیادت میں حماس اور اسرائیلی فریق کے درمیان کئی مہینوں کے طویل مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔

خاص طور پر چونکہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے پہلے فلسطینی اتھارٹی یا حماس کے غزہ کا انتظام سنبھالنے سے انکار کر دیا تھا، اس لیے بھی اس حوالے سے ابھی ابہام موجود ہے۔ یاد رہے اسرائیل کی 15 ماہ کی خونریز جنگ کے بعد غزہ کی پٹی میں زیادہ تر عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ 46 ہزار سے زائد فلسطینی مارے گئے ہیں۔ شہید ہونے والے فلسطینیوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچے شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں